Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
244 - 608
{اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُؕ: مگر وہ جنہیں  الله چاہے۔} یعنی جنہیں  الله تعالیٰ چاہے گا اور جن کے دل کو الله تعالیٰ سکون عطا فرمائے گا انہیں  یہ گھبراہٹ نہ ہوگی۔حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ یہ لوگ شہداء ہیں  جو اپنی تلواریں  گلوں  میں  حمائل کئے عرش کے گرد حاضر ہوں  گے۔ حضرت عبد الله بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’وہ لوگ شہداء ہیں ، اس لئے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک زندہ ہیں ،انہیں  ا س وقت گھبراہٹ نہ پہنچے گی ۔ ایک قول یہ ہے کہ صور پھونکنے کے بعد حضرت جبریل ،حضرت میکائل ،حضرت اسرافیل اور حضرت عزرائیل عَلَیْہِمُ السَّلَام ہی باقی رہیں  گے۔(1)
{وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ: اور سب اس کے حضور عاجزی کرتے حاضر ہوں  گے۔} یعنی قیامت کے دن سب لوگ موت کے بعد زندہ کئے جائیں  گے اور حساب کی جگہ میں  الله تعالیٰ کے حضور عاجزی کرتے ہوئے حاضر ہوں  گے۔(2)
وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِؕ-صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍؕ-اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ(۸۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور تو دیکھے گا پہاڑوں  کو خیال کرے گا کہ وہ جمے ہوئے ہیں  اور وہ چلتے ہوں  گے بادل کی چال یہ کام ہے الله کا جس نے حکمت سے بنائی ہر چیز بیشک اسے خبر ہے تمہارے کاموں  کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تُو پہاڑوں  کو دیکھے گا انہیں  جمے ہوئے خیال کرے گا حالانکہ وہ بادل کے چلنے کی طرح چل رہے ہوں  گے۔یہ اس الله کی کاریگری ہے جس نے ہر چیزکو مضبوط کیا بیشک وہ تمہارے کاموں  سے خبردار ہے۔
{وَ تَرَى الْجِبَالَ: اور توپہاڑوں  کو دیکھے گا۔} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ صور پھونکنے کے وقت پہاڑ اپنی بڑی جسامت کی وجہ سے دیکھنے میں  تو اپنی جگہ ثابت اورقائم معلوم ہوں  گے اور حقیقت میں  وہ بادلوں  کی طرح انتہائی تیز چلتے ہوں  گے ، 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳/۴۲۱، ملتقطاً۔
2…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ص۸۵۷، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۷، ۳/۴۲۱، ملتقطاً۔