Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
242 - 608
وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ(۸۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور بات پڑچکی ان پر ان کے ظلم کے سبب تو وہ اب کچھ نہیں  بولتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان پر ان کے ظلم کے سبب بات واقع ہوچکی تو وہ اب کچھ نہیں  بولتے۔
{وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ: اور ان پر بات واقع ہوچکی۔} یعنی ان کے شرک کے سبب ان پر عذاب ثابت ہو چکا تو وہ اب کچھ نہیں  بولتے کیونکہ اُن کے لئے کوئی حجت اور کوئی گفتگو باقی نہیں  ہے۔ اس آیت کا ایک معنی یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ الله تعا لیٰ کی آیتوں  کو جھٹلانے کی وجہ سے اُن پر عذاب اس طرح چھا جائے گا کہ وہ بول نہ سکیں  گے۔(1)
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن کفار پر ایک وقت ایسا آئے گا جب وہ بول نہ سکیں  گے۔
اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًاؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ(۸۶)
ترجمۂکنزالایمان: کیا انہوں  نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی کہ اس میں  آرام کریں  اور دن کو بنایا سوجھانے والا بیشک اس میں  ضرور نشانیاں  ہیں  ان لوگوں  کے لیے کہ ایمان رکھتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا انہوں  نے نہ دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ وہ اس میں  آرام کریں  اور دن کوآنکھیں  کھولنے والابنایا بیشک اس میں  ان لوگوں  کیلئے ضرور نشانیاں  ہیں  جو ایمان رکھتے ہیں ۔
{اَلَمْ یَرَوْا: کیا انہوں  نے نہ دیکھا۔} اس آیت میں  مرنے کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے پر دلیل ہے، کیونکہ جو دن کی روشنی کو رات کی تاریکی سے اور رات کی تاریکی کو دن کی روشنی سے بدلنے پر قادر ہے وہ مردے کو زندہ کرنے پر بھی قادر مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۳۲۴، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۵، ص۸۵۷، ملتقطاً۔