Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
241 - 608
پر ایمان نہ لاتے تھے جس میں  مرنے کے بعد زندہ کئے جانے اورحساب و عذاب کا بیان ہے ۔ 
وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ(۸۳)حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ(۸۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن اٹھائیں  گے ہم ہر گروہ میں  سے ایک فوج جو ہماری آیتوں  کو جھٹلاتی ہے تو ان کے اگلے روکے جائیں  گے کہ پچھلے ان سے آملیں ۔یہاں  تک کہ جب سب حاضر ہولیں  گے فرمائے گا کیا تم نے میری آیتیں  جھٹلائیں  حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچتا تھا یا کیا کام کرتے تھے ۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس دن کو یاد کروجس دن ہم ہر امت میں  سے ایک گروہ کو اٹھائیں  گے جو ہماری آیتوں  کو جھٹلاتا ہے تو ان کے پہلے لوگوں  کو روکا جائے گا تاکہ ان کے بعد والے ان سے آملیں ۔یہاں  تک کہ جب سب حاضر ہوجائیں  گے تو الله فرمائے گا: کیا تم نے میری آیتوں  کو جھٹلایا تھا حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچا تھایاتم کیا کام کرتے تھے؟ 
{وَ یَوْمَ نَحْشُرُ: اور جس دن ہم اٹھائیں  گے۔} یہاں  سے قیامت کے بارے میں  بیان فرمایا جا رہا ہے۔اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جس دن ہم ہر امت میں  سے ایک گروہ کو اٹھائیں  گے جو انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام پر نازل کردہ ہماری آیتوں  کو جھٹلاتا ہے تو ان کے پہلے لوگوں  کو روکا جائے گا تاکہ ان کے بعد والے ان سے آملیں ، پھر انہیں  حساب کی جگہ کی طرف چلایا جائے گایہاں  تک کہ جب سب حسا ب کی جگہ میں حاضر ہوجائیں  گے تو الله تعالیٰ ان سے فرمائے گا: کیا تم نے میرے رسولوں  پر نازل کردہ میری آیتوں  کو جھٹلایا تھا حالانکہ تمہارا علم ان تک نہ پہنچا تھا اور تم نے اُن کی معرفت حاصل نہ کی تھی اور بغیر سوچے سمجھے ہی ان آیتوں  کا انکار کردیا۔ جب تم اُن آیتوں  میں  غورو فکر کرنے کے اہم ترین کام میں  مشغول نہ ہوئے توتم کیا کام کرتے تھے ؟ تم بے کار تو نہیں  پیدا کئے گئے تھے ۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک ، النمل ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴ ، ص۸۵۷ ، خازن ، النمل ، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ۳/۴۲۰، تفسیر کبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۸۳-۸۴، ۸/۵۷۳، ملتقطاً۔