حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’رسولُ الله صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہمیں کفارِ بدر کی قتل گاہیں دکھاتے تھے کہ یہا ں فلاں کافر قتل ہوگا اوریہاں فلاں ، جہاں جہاں حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بتایا تھا وہیں وہیں ان کی لاشیں گریں ۔ پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے حکم سے ان کی لاشیں ایک کنویں میں بھردی گئیں ۔سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ وہاں تشریف لے گئے اور ان کفار کو ان کا اور ان کے باپ کا نام لے کر پکارا اور فرمایا: جو سچا وعدہ خداا ور رسول نے تمہیں دیاتھا وہ تم نے بھی پالیا؟ کیونکہ جو حق وعدہاللہ تعالیٰ نے مجھے دیا تھا، میں نے تو اسے پالیا۔ حضرت عمر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ الله! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان جسموں سے کیونکر کلام کرتے ہیں جن میں روحیں نہیں ۔ ارشادفرمایا: جو میں کہہ رہاہوں اسے تم ان سے کچھ زیادہ نہیں سنتے لیکن انہیں یہ طاقت نہیں کہ مجھے لوٹ کر جواب دیں ۔(1)
نوٹ: مُردوں کے سننے سے متعلق مسئلے کی مزید تفصیل جاننے کے لئے فتاویٰ رضویہ کی 9ویں جلد میں موجود رسالہ ’’حَیَاتُ الْمَوَاتْ فِیْ بَیَانِ سِمَاعِ الْاَمْوَاتْ‘‘ (مردوں کی سماعت کے بیان میں مفید رسالہ) کا مطالعہ فرمائیں ۔
{وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ: اور نہ تم بہروں کو پکار سناسکتے ہو۔} اس کامعنی یہ ہے کہ کفار کو جس چیز کی دعوت دی جا رہی ہے اس سے انتہا درجے کے اِعراض اورروگردانی کی وجہ سے وہ مُردے اور بہرے کی طرح ہوگئے ہیں تو جس طرح مردے اور سننے سمجھنے سے قاصر بہرے کو حق کی دعوت دینا کوئی فائدہ نہیں دیتا اسی طرح ان کافروں کو حق کی دعوت دینا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔(2)
وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْؕ-اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ(۸۱)
ترجمۂکنزالایمان: اور اندھوں کو ان کی گمراہی سے تم ہدایت کرنے والے نہیں تمہارے سنائے تو وہی سنتے ہیں جو ہماری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسلم،کتاب الجنۃ وصفۃ نعیمہا واہلھا، باب عرض مقعد المیت من الجنۃ او النار علیہ۔۔۔الخ،ص۱۵۳۶، الحدیث: ۷۶( ۲۸۷۳)۔
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳/۴۱۹، ملخصاً۔