Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
239 - 608
آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں  اور وہ مسلمان ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اندھوں  کو ان کی گمراہی سے  (نکال کر) ہدایت دینے والے نہیں ۔تم تو اسی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں تو وہ فرمانبردار ہیں ۔
{وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ: اور تم اندھوں  کو ہدایت دینے والے نہیں ۔} اس کا معنی یہ ہے کہ جسے الله تعالیٰ نے ہدایت سے اور ا س کے دل کو ایمان سے اندھا کر دیا آپ اسے گمراہی سے نکال کر ہدایت نہیں  دے سکتے ۔(1)
{اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا: تم تو اسی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں  پر ایمان لاتے ہیں ۔} یعنی آپ صرف انہی کو سنا سکتے ہیں  جن کے پاس سمجھنے والے دل ہیں  اور جو الله تعالیٰ کے علم میں  ایمان کی سعادت سے بہرہ اندوز ہونے والے ہیں  اور وہ مخلص مسلمان ہیں ۔(2)
وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْۙ-اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠(۸۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور جب بات ان پر آپڑے گی ہم زمین سے ان کے لیے ایک چوپایہ نکالیں  گے جو لوگوں  سے کلام کرے گا اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں  پر ایمان نہ لاتے تھے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جب ان پر با ت آپڑے گی توہم ان کے لیے زمین سے ایک جانور نکالیں  گے جو لوگوں  سے کلام کرے گااس لیے کہ لوگ ہماری آیتوں  پر یقین نہ کرتے تھے۔
{وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ: اور جب ان پر با ت آپڑے گی۔} مفسرین نے ’’بات آ پڑنے‘‘ کے مختلف معنی بیان کئے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۱، ۳/۴۱۹۔
2…بیضاوی، النمل، تحت الآیۃ: ۸۱، ۴/۲۷۸، تفسیر کبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۸۱، ۸/۵۷۱، تفسیر ابو سعود، النمل، تحت الآیۃ: ۸۱، ۴/۲۱۵، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۱، ص۸۵۶۔