Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
237 - 608
یہ ہے کہ یہاں  کفار کو مُردہ فرمایا گیا اور اُن سے بھی مُطلَقاً ہر کلام سننے کی نفی مراد نہیں  ہے بلکہ وعظ و نصیحت اور کلامِ ہدایت قبول کرنے کیلئے سننے کی نفی ہے اور مراد یہ ہے کہ کافر مردہ دل ہیں  کہ نصیحت سے کوئی فائدہ نہیں  اٹھاتے۔ حضرت ملا علی قاری رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’مردوں  سے مراد کفار ہیں  اور (یہاں ) مطلق سننے کی نفی نہیں  بلکہ معنی یہ ہے کہ ان کاسننا نفع بخش نہیں  ہوتا۔(1)
	اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ کے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اس آیت میں  سننے کی نفی نہیں  بلکہ سنانے کی نفی ہے اور اگر سننے کی نفی مان لی جائے تو یہاں  یقینا’’سننا‘‘ قبول کرنے کے لئے سننے اور نفع بخش سننے کے معنی میں  ہے۔ باپ اپنے عاقل بیٹے کو ہزار بارکہتاہے : وہ میری نہیں  سنتا۔ کسی عاقل کے نزدیک اس کے یہ معنی نہیں کہ حقیقۃً کان تک آواز نہیں جاتی۔ بلکہ صاف یہی کہ سنتا توہے، مانتا نہیں ، اور سننے سے اسے نفع نہیں  ہوتا، آیۂ کریمہ میں  اسی معنی کے ارادہ پر ’’ہدایت‘‘ شاہدکہ کفار سے نفع اٹھانے ہی کی نفی ہے نہ کہ اصل سننے کی نفی۔ خود اسی آیۂ کریمہ ’’اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى‘‘ کے تتمہ میں ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ‘‘ تم نہیں  سناتے مگر انھیں  جو ہماری آیتوں  پریقین رکھتے ہیں  تو وہ فرمانبردار ہیں ۔ اور پُر ظاہر کہ وعظ و نصیحت سے نفع حاصل کرنے کا وقت یہی دنیا کی زندگی ہے۔ مرنے کے بعد نہ کچھ ماننے سے فائدہ نہ سننے سے حاصل، قیامت کے دن سبھی کافر ایمان لے آئیں  گے، پھر اس سے کیا کام، توحاصل یہ ہوا کہ جس طرح مردوں  کو وعظ سے کوئی فائدہ نہیں ، یہی حال کافروں  کا ہے کہ لاکھ سمجھائیے نہیں  مانتے۔(2)
مُردوں  کے سننے کا ثبوت:
	 کثیر اَحادیث سے مُردوں  کا سننا ثابت ہے، یہاں ہم بخاری شریف اور مسلم شریف سے دو اَحادیث ذکر کرتے ہیں  جن میں  مردوں  کے سننے کا ذکر ہے۔ چنانچہ
	حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب بندے کو اس کی قبر میں  رکھ دیا جاتا ہے اور لوگ دفن کرکے پلٹتے ہیں  توبیشک وہ یقینا تمہارے جوتوں  کی آواز سنتا ہے۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الجہاد، باب حکم الاسرائ، الفصل الاول، ۷/۵۱۹، تحت الحدیث: ۳۹۶۷۔
2…فتاویٰ رضویہ، ۹/۷۰۱، ملخصاً۔
3…بخاری ، کتاب الجنائز، باب المیت یسمع خفق النعال، ۱/۴۵۰، الحدیث: ۱۳۳۸۔