Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
236 - 608
{اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ: بیشک تمہارا رب ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بنی اسرائیل کے جو لوگ دینی اُمور میں  باہم اختلاف کر رہے ہیں ،آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ اپنے حکم سے قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ فرما دے گااور آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی عزت والا اور غلبے والا ہے، اس لئے کوئی اس کے حکم اور فیصلے کو رد نہیں  کر سکتا اور آپ کا رب عَزَّوَجَلَّ ہی تمام اَشیاء کا علم رکھنے والا ہے،لہٰذا اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ الله تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں  اور ان کی عداوت و دشمنی کی پرواہ نہ کریں ، بے شک آپ روشن حق پر ہیں ۔(1)
اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ(۸۰)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارے سُنائے نہیں  سنتے مُردے اور نہ تمہارے سنائے بہرے پکار سُنیں  جب پھریں  پیٹھ دے کر۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تم مردوں  کو نہیں  سناسکتے اور نہ تم بہروں  کو پکار سناسکتے ہو جب وہ پیٹھ دے کرپھر رہے ہوں ۔
{اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى: بیشک تم مُردوں  کو نہیں  سناسکتے۔} علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت کی تفسیر میں  فرماتے ہیں  :یعنی جن لوگوں  کے دل مردہ ہیں  آپ انہیں  نہیں  سنا سکتے اور وہ لوگ کفار ہیں ۔(2)اورابو البرکات عبد الله بن احمد نسفی رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت میں  کفار کو زندہ ہونے اور حواس درست ہونے کے باوجود مُردوں  کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔(3)
آیت ’’اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى‘‘ سے مُردوں  کے نہ سننے پر اِستدلال کرنے والوں  کا رد:
	بعض حضرات اس آیت سے مُردوں  کے نہ سننے پر استدلال کرتے ہیں ، ان کا استدلال غلط ہے۔اس کی وجہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۷۸، ۶/۳۶۹۔
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۸۰، ۳/۴۱۹۔
3…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۸۰، ص۸۵۶۔