Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
235 - 608
یَخْتَلِفُوْنَ(۷۶)وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ(۷۷)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک یہ قرآن ذکر فرماتا ہے بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں  جس میں  وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ اور بیشک وہ ہدایت اور رحمت ہے مسلمانوں  کے لیے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل سے اکثر وہ باتیں ذکر فرماتا ہے جس میں  وہ اختلاف کرتے ہیں ۔ اور بیشک یہ مسلمانوں  کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔
{اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ: بیشک یہ قرآن۔} اہلِ کتاب نے دینی اُمور میں  آپس میں  اختلاف کیا جس کی وجہ سے اُن کے بہت سے فرقے بن گئے اور آپس میں  لعن طعن کرنے لگے تو قرآنِ کریم نے ان کے اختلافی امور کوحقیقت کے مطابق ایسے شاندار انداز میں  بیان کیا کہ اگر اہلِ کتاب انصاف کریں  اور اسے قبول کریں  اور اسلام لائیں  تو ان میں  یہ باہمی اختلاف باقی نہ رہے۔(1)
اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ ۙۚ-وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُ ﳐ (۷۸)فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِؕ-اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ(۷۹)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک تمہارا رب ان کے آپس میں  فیصلہ فرماتا ہے اپنے حکم سے اور وہی ہے عزت و الا علم والا۔تو تم الله پر بھروسہ کرو بیشک تم روشن حق پر ہو۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک تمہارا رب اپنے حکم سے ان کے درمیان فیصلہ فرمادے گا اور وہی عزت و الا علم والاہے۔ تو تم الله پر بھروسہ کرو بیشک تم روشن حق پر ہو۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۷۶، ۳/۴۱۹، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۷۶، ص۸۵۵، ملتقطاً۔