ہر مسلمان کو چاہئے کہ اس کا دل کسی کے بارے میں بغض،حسد،کینہ اور عداوت وغیرہ سے صاف ہو کیونکہ اس کے دل میں چھپی ہوئی ان چیزوں کو بھی اس کا رب تعالیٰ جانتا ہے۔ ایک اور مقام پر الله تعالیٰ ارشاد فرماتاہے :
’’ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُسِرُّوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَؕ-وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور وہ جانتا ہے جو تم چھپاتے ہواور جوتم ظاہر کرتے ہو، اور الله دلوں کی بات جانتا ہے۔
اورارشاد فرماتا ہے:
’’ وَ اَسِرُّوْا قَوْلَكُمْ اَوِ اجْهَرُوْا بِهٖؕ-اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تم اپنی بات آہستہ کہو یا آواز سے، بیشک وہ تو دلوں کی بات جانتا ہے۔
اور قیامت کے دن کے بارے حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا قول ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
’’ یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَۙ(۸۸)اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ بیٹے۔مگر وہ جو الله کے حضور سلامت دل کے ساتھ حاضر ہوگا۔
حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے بھی اپنی امت کو اسی چیز کی تعلیم دی ہے، چنانچہ حضرت عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم میں سے کوئی شخص کسی صحابی کے بارے میں مجھ سے شکایت نہ کرے کیونکہ میں چاہتا ہوں کہ (اپنے گھر سے) ان کی طرف اس طرح نکلوں کہ میرا دل صاف ہو (اور میرے دل میں کسی کے بارے میں کوئی رنجش نہ ہو۔)(4)
الله تعالیٰ مسلمانوں کوگناہوں سے بچنے اور اپنے دلوں کو باطنی امراض سے پاک صاف رکھنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…التغابن: ۴۔
2…الملک: ۱۳۔
3…الشعراء:۸۸،۸۹۔
4…ترمذی ، کتاب المناقب، باب:فضل ازواج النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وآلہ وسلم، ۵/۴۷۵، الحدیث: ۲۲۳۹۔