ترجمۂکنزُالعِرفان: اور بیشک تیرا رب لوگوں پرفضل والا ہے لیکن ان میں اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اور بیشک تمہارا رب یقیناجانتا ہے جو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تیرا رب۔} ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بیشک تیرا رب عَزَّوَجَلَّ لوگوں پرفضل فرمانے والا ہے، اسی لئے عذاب میں تاخیر فرماتا ہے، لیکن ان میں اکثر لوگ الله تعالیٰ کی اس نعمت کا حق نہیں مانتے اور شکر گزاری نہیں کرتے اور اپنی جہالت کی وجہ سے عذاب نازل ہونے کی جلدی کرتے ہیں ۔(1)
{وَ اِنَّ رَبَّكَ: اور بیشک تمہارا رب۔} آیت کا خلاصۂ کلام یہ ہے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ پوشیدہ اور اِعلانیہ عداوت رکھنا اور آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مخالفت میں مکاریاں کرنا سب کچھ الله تعالیٰ کو معلوم ہے، وہ انہیں اس کی سزا دے گا۔(2)
وَ مَا مِنْ غَآىٕبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ(۷۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جتنے غیب ہیں آسمان اور زمین کے سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور آسمانوں اور زمین میں جتنے غیب ہیں سب ایک بتانے والی کتاب میں ہیں ۔
{وَ مَا مِنْ غَآىٕبَةٍ: اور جتنے غیب ہیں ۔} یعنی آسمانوں اور زمین میں جتنے غیب ہیں سب ایک بتانے والی کتاب لوحِ محفوظ میں ثَبت ہیں اور الله تعالیٰ کے فضل سے جنہیں ان کا دیکھنا مُیَسَّر ہے اُن کے لئے ظاہر ہیں ۔(3)
گناہ چھوڑنے اور دل کو باطنی اَمراض سے پاک رکھنے کی ترغیب:
اس آیت اور اس سے اوپر والی آیت کو سامنے رکھتے ہوئے ہر انسان کو چاہئے کہ وہ گناہوں کو چھوڑ دے کیونکہ الله اُسے جانتا اور ا س کے تمام اَفعال پر مطلع ہے اگرچہ وہ اپنے افعال کو مخلوق سے چھپانے کی انتہائی کوشش کر لے،نیز
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ : ۷۳، ص۸۵۵۔
2…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۷۴، ص۸۵۵۔
3…تفسیرِ کبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۷۵، ۸/۵۷۰، ملخصاً۔