Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
232 - 608
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(۷۱)قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ(۷۲)
ترجمۂکنزالایمان: اور کہتے ہیں  کب آئے گا یہ وعدہ اگر تم سچے ہو۔تم فرماؤ قریب ہے کہ تمہارے پیچھے آ لگی ہو بعض وہ چیز جس کی تم جلدی مچارہے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اورکافر کہتے ہیں : یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا؟ اگر تم سچے ہو (تو بتاؤ)۔ تم فرماؤ: ہوسکتا ہے کہ جس (عذاب) کی تم جلدی مچارہے ہو اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو۔
{وَ یَقُوْلُوْنَ: اورکافر کہتے ہیں ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافر یہ کہتے ہیں : اگر آپ عذاب نازل ہونے کے وعدے میں  سچے ہیں  تو آپ بتائیں  کہ یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرمادیں  کہ جس عذاب کے نازل ہونے کی تم جلدی مچا رہے ہو، ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے آلگا ہو اور تمہارے قریب پہنچ چکا ہو۔ چنانچہ وہ عذاب بدر کے دن اُن پر آہی گیا اور باقی عذاب وہ موت کے بعد پائیں  گے۔(1) 
وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ(۷۳)وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ(۷۴)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تیرا رب فضل والا ہے آدمیوں  پر لیکن اکثر آدمی حق نہیں  مانتے۔اور بیشک تمہارا رب جانتا ہے جو ان کے سینوں  میں  چھپی ہے اور جو وہ ظاہر کرتے ہیں ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین ، النمل، تحت الآیۃ: ۷۱-۷۲، ص۳۲۳۔