وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُۙ-اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ(۶۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور کافر بولے کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔ بیشک اس کا وعدہ دیا گیا ہم کو اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو یہ تو نہیں مگر اگلوں کی کہانیاں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور کافر وں نے کہا:کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے توکیا ہم پھر نکالے جائیں گے؟ بیشک یہ وعدہ ہمیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ داداؤں کو دیا گیا تھا،یہ تو صرف پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں ہیں ۔
{وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا: اور کافر وں نے کہا۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کافروں نے مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کا انکار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جب مرنے کے بعدہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوجائیں گے توکیا ہم پھرقبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے؟ بیشک مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا جووعدہ ہمیں دیا گیا ہے، پچھلے زمانوں میں یہی وعدہ ہمارے باپ داداؤں کو بھی دیا گیا تھا لیکن وہ تو دوبارہ زندہ نہیں ہوئے اور نہ ہر گز ہوں گے، یہ تو صرف پہلے لوگوں کی جھوٹی کہانیاں ہیں جنہیں رستم و اسفندیار کے قصوں کی طرح ان لوگوں نے لکھا ہے۔(1)
قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ(۶۹)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ زمین میں چل کر دیکھو کیسا ہواا نجام مجرموں کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: زمین میں چل کر دیکھو، مجرموں کا انجام کیسا ہوا؟
{قُلْ: تم فرماؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے اور اسے جھٹلانے والے ان کافروں سے فرمادیں کہ (اگر تمہارے گمان کے مطابق یہ وعدہ جھوٹی کہانی ہے تو) تم جھٹلانے والوں
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین ، النمل، تحت الآیۃ: ۶۷،ص۳۲۳، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۶۷، ۳/۴۱۸، روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۶۷، ۶/۳۶۶، ملتقطاً۔