نے ایمان بالغیب کا جبھی حکم دیا ہے کہ اپنے غیب کا دروازہ ہمارے لیے کھول دیا ہے۔(1)
علم ِغیب سے متعلق تفصیلی معلومات کے لئے اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ کی کتاب ’’اَلدَّوْلَۃُ الْمَکِّیَّہْ بِالْمَادَّۃِ الْغَیْبِیَّہْ‘‘(علمِ غیب کے مسئلے کا دلائل کے ساتھ تفصیلی بیان) اور فتاویٰ رضویہ کی 29ویں جلد میں موجود رسائل ’’اِزَاحَۃُ الْعَیبْ بِسَیْفِ الْغَیبْ‘‘(علمِ غیب کے مسئلے سے متعلق دلائل اوربدمذہبوں کا رَد) اور ’’خَالِصُ الْاِعْتِقَادْ‘‘(علمِ غیب سے متعلق ۱۲۰دلائل پر مشتمل ایک عظیم کتاب) کا مطالعہ فرمائیں ۔
بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ ﱄ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا-بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠(۶۶)
ترجمۂکنزالایمان: کیا ان کے علم کا سلسلہ آخرت کے جاننے تک پہونچ گیا کوئی نہیں وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا ہے ؟ بلکہ وہ اس کی طرف سے شک میں ہیں بلکہ وہ اس سے اندھے ہیں ۔
{بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ: کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا ہے؟} آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا کافروں کا علم آخرت کے بارے میں مکمل ہوچکا اور انہیں قیامت قائم ہونے کا علم ویقین حاصل ہوگیا جو وہ اس کا وقت دریافت کرتے ہیں ؟ حالانکہ ایساہر گز نہیں بلکہ وہ تو اس کی طرف سے شک میں ہیں ، انہیں ابھی تک قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے بلکہ وہ اس سے جاہل ہیں اور بصیرت نہ ہونے کی وجہ سے قیامت کے دلائل کو سمجھ نہیں سکتے۔(2)
وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَىٕنَّا لَمُخْرَجُوْنَ(۶۷)لَقَدْ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نسیم الریاض، فصل و من ذلک ما اطلع علیہ من الغیوب۔۔۔الخ، ص۱۵۱، فتاویٰ رضویہ، ۲۹/۴۳۸-۴۳۹، ملخصاً۔
2…جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۶۶، ص۳۲۳، بیضاوی، النمل،تحت الآیۃ: ۶۶، ۴/۲۷۵، ملتقطاً۔