Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
228 - 608
ہیں ۔ علمِ عطائی کہ دوسرے کا دیا ہوا ہواور علمِ غیر محیط کہ بعض اَشیاء سے مطلع ہو اور بعض سے ناواقف ہو، الله عَزَّوَجَلَّ کے لیے ہو ہی نہیں  سکتا،اس سے مخصوص ہونا تو دوسرا درجہ ہے۔ اور الله عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے علومِ غیب غیر محیط کا اَنبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ملنا بھی قطعاً حق ہے اور کیوں  نہ ہو کہ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’وَ  مَا  كَانَ  اللّٰهُ  لِیُطْلِعَكُمْ  عَلَى  الْغَیْبِ  وَ  لٰكِنَّ  اللّٰهَ  یَجْتَبِیْ  مِنْ  رُّسُلِهٖ  مَنْ  یَّشَآءُ   ۪- ‘‘(1)
اور الله کی شان یہ نہیں  کہ اے عام لوگوتمہیں  غیب کا علم دے  ہاں  الله چن لیتا ہے اپنے رسولوں  سے جسے چاہے۔
	اور فرماتا ہے:
’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْهِرُ عَلٰى غَیْبِهٖۤ اَحَدًاۙ(۲۶) اِلَّا مَنِ ارْتَضٰى مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘(2)
 الله عالم الغیب ہے تو اپنے غیب پر کسی کو مسلط نہیں  کرتاسوااپنے پسندیدہ رسولوں  کے۔
	اور فرماتا ہے:
’’ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍ‘‘(3)
یہ نبی غیب کے بتانے میں  بخیل نہیں ۔
	اور فرماتا ہے:
’’ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَؕ-‘‘(4)
 یعنی اے نبی !یہ غیب کی باتیں  ہم تم کو مخفی طور پر بتاتے ہیں ۔
	حتّٰی کہ مسلمانوں  کو فرماتا ہے:
’’یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ‘‘(5)
غیب پر ایمان لاتے ہیں ۔
	ایمان تصدیق (کا نام) ہے اور تصدیق علم ہے، (تو) جس شے کا اصلاً علم ہی نہ ہو اس پر ایمان لانا کیونکر ممکن (لہٰذا ثابت ہوا کہ مسلمانوں  کو غیب کا علم حاصل ہے)، تفسیر کبیر میں  ہے: ’’لَایَمْتَنِعُ اَنْ نَّقُوْلَ نَعْلَمُ مِنَ الْغَیْبِ مَالَنَا عَلَیْہِ دَلِیْلٌ‘‘ یہ کہنا کچھ منع نہیں  کہ ہم کو اس غیب کا علم ہے جس میں  ہمارے لیے دلیل ہے۔(6)
	نسیم الریاض میں  ہے: ’’لَمْ یُکَلِّفْنَااللہُ الْاِیْمَانَ بِالْغَیْبِ اِلَّا وَ قَدْ فَتَحَ لَنَا بَابَ غَیْبِہٖ‘‘ ہمیں  الله تعالیٰ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…آل عمران:۱۷۹۔		4…یوسف: ۱۰۲۔
2…الجن:۲۶،۲۷۔		5…بقرہ: ۳ ۔
3…التکویر: ۲۴۔		6…تفسیرِ کبیر، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۱/۲۷۴۔