اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ(۶۵)
ترجمۂکنزالایمان: تم فرماؤ خود غیب نہیں جانتے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہیں مگر الله اور انہیں خبر نہیں کہ کب اُٹھائے جائیں گے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم فرماؤ: الله کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب نہیں جانتا اور لوگ نہیں جانتے کہ انہیں کب اُٹھایا جائے گا؟
{قُلْ: تم فرماؤ۔} اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ مشرکین نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے قیامت کے آنے کا وقت دریافت کیا تھا،ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور آیت کا معنی یہ ہے کہ صرف الله تعالیٰ ہی غیب جانتاہے، اس کے علاوہ اور کوئی غیب نہیں جانتا اور قیامت قائم ہونے کا وقت بھی اسے ہی معلوم ہے اورآسمانوں میں جتنے فرشتے ہیں اور زمین میں جتنے انسان ہیں وہ نہیں جانتے کہ انہیں دوبارہ کب اٹھایا جائے گا۔(1)
غیب کا علم الله تعالیٰ کے ساتھ خاص ہونے سے متعلق اہم کلام:
اس آیت میں اور اس کے علاوہ کئی آیات میں غیب کے علم کو الله تعالیٰ کے ساتھ خاص کیا گیا ہے اور الله تعالیٰ کے علاوہ سے علمِ غیب کی نفی کی گئی ہے، اسی مناسبت سے یہاں ہم علمِ غیب سے متعلق ایک خلاصہ ذکر کرتے ہیں تاکہ وہ آیات،احادیث اور اقوالِ علماء جن میں الله تعالیٰ کے علاوہ دوسروں سے علم غیب کی نفی کی گئی ہے ا ن کا اصل مفہوم واضح ہو اور علم غیب سے متعلق اہلِ حق کے اصل عقیدے کی وضاحت ہو۔چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ الله تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’علمِ غیب الله تعالیٰ کا خاصہ ہونا بے شک حق ہے اور کیوں نہ ہو کہ رب عَزَّوَجَلَّ فرماتا ہے:
’’ قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-‘‘
تم فرمادو کہ آسمانوں اور زمین میں الله کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ۔‘‘
اور اس سے مراد وہی علمِ ذاتی اورعلمِ محیط (یعنی ہر چیز کا علم) ہے کہ وہی الله تعالیٰ کے لیے ثابت اور اس سے مخصوص
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۶۵، ۳/۴۱۷، مدارک، النمل،تحت الآیۃ: ۶۵، ص۸۵۳، ملتقطاً۔