Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
226 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا وہ بہتر ہے جو خلق کی ابتداء فرماتا ہے پھر اسے دوبارہ بنائے گااور وہ جو تمہیں  آسمانوں  اور زمین سے روزی دیتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ تم فرماؤ: اپنی دلیل لاؤ اگر تم سچے ہو۔
{اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ: یا وہ بہتر ہے جو خلق کی ابتدا فرماتا ہے۔} آیت کے ابتدائی لفظ ’’ اَمَّنْ‘‘ کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا بت بہتر ہیں  یا وہ جو۔۔۔۔۔۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مشرکین جنہیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں  وہ ہر گز بہتر نہیں  بلکہ وہ بہتر ہے جو مخلوق کو بغیر کسی مثال کے ابتدا ء ً پیدا فرماتا ہے، پھر مخلوق کی موت کے بعد اسے دوبارہ بنائے گا۔ کفار اگرچہ موت کے بعد زندہ کئے جانے کااقرار اور اعتراف نہیں  کرتے تھے،اس کے باوجود ان کے سامنے الله تعالیٰ کے دوبارہ زندہ کرنے پر قادر ہونے والی دلیل اس لئے بیان کی گئی کہ جب دوبارہ زندہ کئے جانے پر ناقابلِ تردید دلائل قائم ہیں  تو ان کا اقرار نہ کرنا کچھ بھی قابلِ لحاظ نہیں ، بلکہ جب کفار ابتدائی پیدائش کے قائل ہیں  تو انہیں  دوبارہ پیدا کئے جانے کا قائل ہونا پڑے گا کیونکہ ابتدائی پیدائش دوبارہ پیدا کئے جانے کی انتہائی مضبوط دلیل ہے، تو اب اُن کے لئے ا س سے عذر و انکار کی کوئی جگہ باقی نہیں  رہی۔(1)
	مزید ارشاد فرمایا کہ اور وہ جو تمہیں  آسمانوں  سے بارش کے ذریعے اور زمین سے نباتات کے ذریعے روزی دیتا ہے، کیا الله تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے جس نے یہ کام کئے ہوں ؟ہر گز اس کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں  ہے۔ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ ان سے فرما دیں  کہ : اگر تم اپنے اس دعوے میں  کہ ’’ الله تعالیٰ کے سوا اور بھی معبود ہیں ‘‘ سچے ہو تو بتاؤ جو صفات اور کمالات (اوپر) بیان کئے گئے وہ کس میں  ہیں ؟ اور جب الله تعالیٰ کے سوا ایسا کوئی نہیں  تو پھر کسی دوسرے کو کس طرح معبود ٹھہراتے ہو۔‘‘ یہاں  ’’هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ‘‘ فرما کر ان کے عاجز اوربے بس ہونے کا اظہار مقصود ہے۔(2)
قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُؕ-وَ مَا یَشْعُرُوْنَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرِکبیر، النمل، تحت الآیۃ: ۶۴، ۸/۵۶۷، جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۳۲۳، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۸۵۳، ملتقطاً۔
2…جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۶۴، ص۳۲۳، تفسیرابو سعود، النمل، تحت الآیۃ: ۶۴، ۴/۲۱۱، ملتقطاً۔