باوجودان درختوں کو اگاناتمہارے لئے ممکن نہ تھا کیونکہ ان درختوں کے اگنے اورا ن کی نَشوونُما کے لئے الله تعالیٰ نے باقاعدہ جو نظام قائم فرمایا ہے، اگر وہ نظام نہ ہوتا تو درخت کس طرح اگتے۔ کیا قدرت کے یہ دلائل دیکھ کر ایسا کہا جاسکتا ہے کہ الله تعالیٰ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ ہر گز ایسا نہیں کہا جا سکتا،وہ واحد ہے، اس کے سوا اورکوئی معبود نہیں ،جبکہ مشرکین ایسے لوگ ہیں جن کی عادت راہ ِحق یعنی الله تعالیٰ کی وحدانیت سے کترانا اور راہِ باطل یعنی الله تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کو اختیار کرنا ہے۔(1)
اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًاؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ(۶۱)
ترجمۂکنزالایمان: یا وہ جس نے زمین بسنے کو بنائی اور اس کے بیچ میں نہریں نکالیں اور اس کے لیے لنگر بنائے اور دونوں سمندروں میں آڑ رکھی کیا الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا وہ بہتر ہے جس نے رہائش کیلئے زمین بنائی اور اس کے درمیان میں نہریں بنائیں اور اس کے لئے لنگر بنائے اور دو سمندروں کے درمیان آڑ رکھی۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ بلکہ ان میں اکثر جاہل ہیں ۔
{اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا: یا وہ بہتر ہے جس نے رہائش کیلئے زمین بنائی۔} آیت کے ابتدائی لفظ ’’اَمَّنْ‘‘ کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا بت بہتر ہیں یا وہ جس نے۔۔۔۔۔۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ مشرکین جنہیں اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ہر گز بہتر نہیں بلکہ وہ بہتر ہے جس نے زمین کو پھیلا کر ہموار کر کے اوراسے سختی اور نرمی کے درمیان مُتَوَسِّط بناکر،سورج کی شعاعوں کو جذب کرنے کی صلاحیت دے کراسے رہائش کے قابل بنایا اورزمین کے درمیان میں نہریں بنائیں جن میں پانی جاری ہے اور زمین کیلئے وزنی پہاڑوں کے لنگر بنائے جو اُسے جنبش کرنے سے روکتے ہیں اور کھاری اور میٹھے دو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ:۶۰،۳/۴۱۶، روح البیان، النمل، تحت الآیۃ:۶۰،۶/۳۶۰، مدارک، النمل، تحت الآیۃ:۶۰، ص۸۵۲، صاوی، النمل، تحت الآیۃ: ۶۰، ۴/۱۵۰۶، ملتقطاً۔