سمندروں کے درمیان آڑ رکھی تا کہ ایک کا پانی دوسرے میں داخل نہ ہو۔ ذرا غور کرکے بتاؤ تو سہی کہ کیا کسی انسان، سورج، چاند، درخت، پتھر یاآگ میں سے کوئی اس بات پر قادر ہے کہ وہ زمین میں ان خصوصیات اور ان نعمتوں کو پیدا کر سکے۔جب الله تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور ان خصوصیات اور نعمتوں کو پیدا کر ہی نہیں سکتا تو تم صرف اسی کی عبادت کیوں نہیں کرتے ؟اصل معاملہ یہ ہے کہ ان میں اکثر لوگ جاہل ہیں جو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی توحید اور اس کی قدرت و اختیار کو نہیں جانتے اور اس پر ایمان نہیں لاتے۔(1)
الله تعالیٰ کی معرفت کا بہت بڑ اذریعہ:
اس سے معلوم ہوا کہ پودوں ، سمندروں اور دریاؤں کے بارے میں علم، الله تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کا بہت بڑا ذریعہ ہے،لہٰذا جو لوگ ان چیزوں کا علم رکھتے ہیں وہ دلائل کے ساتھ الله تعالیٰ کی قدرت،اس کے اکیلا معبود اور یکتا خالق ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں ۔
اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ(۶۲)
ترجمۂکنزالایمان: یا وہ جو لاچار کی سنتا ہے جب اسے پکارے اور دور کردیتا ہے برائی اور تمہیں زمین کے وارث کرتا ہے کیا الله کے ساتھ اور خدا ہے بہت ہی کم دھیان کرتے ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے جب وہ اسے پکارے اوربرائی ٹال دیتا ہے اور تمہیں زمین کا وارث کرتا ہے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اورمعبود ہے؟تم بہت ہی کم نصیحت حاصل کرتے ہو۔
{اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ: یا وہ بہتر جو مجبور کی فریاد سنتا ہے۔ } آیت کے ابتدائی لفظ ’’اَمَّنْ‘‘ کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر ، النمل ، تحت الآیۃ : ۶۱، ۸ / ۵۶۴، خازن، النمل،تحت الآیۃ: ۶۱، ۳/۴۱۷، قرطبی، النمل، تحت الآیۃ: ۶۱، ۷/۱۶۹، الجزء الثالث عشر، ملتقطًا۔