Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
221 - 608
پارہ نمبر…20
اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءًۚ-فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآىٕقَ ذَاتَ بَهْجَةٍۚ-مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَاؕ-ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِؕ-بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ(۶۰)
ترجمۂکنزالایمان: یاوہ جس نے آسمان اور زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اُتارا تو ہم نے اس سے باغ اُگائے رونق والے تمہاری طاقت نہ تھی کہ ان کے پیڑ اُگاتے کیا الله کے ساتھ کوئی اور خدا ہے بلکہ وہ لوگ راہ سے کتراتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: یا وہ بہتر ہے جس نے آسمان و زمین بنائے اور تمہارے لیے آسمان سے پانی اتارا تو ہم نے اس پانی سے بارونق باغ اگائے۔ تمہارے لئے ممکن نہ تھا کہ تم ان (باغوں ) کے درخت اگادیتے۔ کیا الله کے ساتھ کوئی اور معبود ہے؟ (ہرگز نہیں ،) بلکہ وہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ۔
{اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ: یا وہ بہتر ہے جس نے آسمان و زمین بنائے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی 5آیات کی ابتداء میں  مذکور لفظ ’’اَمْ‘‘ کے بارے میں  مفسرین کاایک قول یہ ہے کہ یہاں  ’’اَمْ‘‘ متصلہ ہے اوردوسرا قول یہ ہے کہ یہاں  ’’اَمْ‘‘ منقطعہ ہے۔ پہلے قول کے اعتبار سے آیت کے ابتدائی لفظ ’’اَمَّنْ‘‘ کا معنی یہ ہے کہ کیا بت بہتر ہیں  یا وہ خداجس نے۔۔۔۔۔۔ دوسرے قول کے اعتبار سے اس کا معنی یہ ہے کہ مشرکین جنہیں  الله تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے ہیں  وہ ہر گز بہتر نہیں  بلکہ وہ بہتر ہے جس نے آسمان اور زمین جیسی عظیم اور عجیب مخلوق بنائی اور تمہارے فائدے کے لیے آسمان سے پانی اتارا اور الله تعالیٰ نے ہی اس پانی سے جدا جدا رنگوں ،ذائقوں  اور شکلوں  والے پھلوں  وغیرہ کے باغات اگائے۔ تم اگرچہ ظاہری طور پر بیج بوتے ہو، ٹہنیاں  لگاتے ہو اور ان باغات کوپانی سے سیراب کرتے ہو لیکن اس کے