ہیں کہ چنے ہوئے بندوں سے حضور پُرنور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ ٔ کرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ مراد ہیں ۔(1)
{ ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَ: کیا اللہ بہتریا ان کے خود ساختہ شریک ؟} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ کیا اللہ تعالٰی کی عبادت کرنے والے کے لئے اللہ تعالٰی بہتر ہے یا بتوں کے عبادت کرنے والے کے لئے بت بہتر ہیں ۔ بے شک جو اللہ تعالٰی پر ایمان لایا اور اس نے خاص اللہ تعالٰی کی عبادت کی تو اس کے لئے اللہ تعالٰی بہتر ہے کیونکہ وہ انہیں عذاب اور ہلاکت سے بچا تا ہے جبکہ عذاب نازل ہونے کے وقت بت اپنے عبادت گزاروں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے۔ (2)اس لئے بتوں کو پوجنا اور معبود ماننا انتہائی بے جا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۵۹، ص۸۵۱-۸۵۲، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/ ۴۱۶، ملتقطاً۔
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۵۹، ۳/ ۴۱۶۔