Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
219 - 608
والوں  میں  ہے۔ اور ہم نے ان پر ایک برساؤ برسایا تو کیا ہی بُرا برساؤ تھا ڈرا ئے ہوؤں  کا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اس کی قوم کا اس کے سواکچھ جواب نہ تھا کہ کہنے لگے کہ لوط کے گھروالوں  کو اپنی بستی سے نکال دو،بیشک یہ ایسے لوگ ہیں  جو بڑے پاک صاف بنتے ہیں ۔ تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں  کو نجات دی مگر اس کی عورت کو، ہم نے اسے پیچھے رہ جانے والوں  میں  سے مقرر کردیا تھا۔اور ہم نے ان پر ایک بارش برسائی تو ڈرائے جانے والوں  کی بارش کتنی بری تھی۔
{اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ: بیشک یہ ایسے لوگ ہیں  جو بڑے پاک صاف بنتے ہیں ۔} قومِ لوط کا یہ قول بدباطنی کی انتہا ہے کہ اپنی خبیث حرکتوں  کو برا سمجھنے اور ان سے باز آنے کی بجائے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کے ساتھیوں  کا مذاق اُڑا رہے ہیں  کہ یہ بڑے پاکباز بنتے پھرتے ہیں ۔ ہمارا معاشرہ بھی ایسی کئی شَناعتوں  کا مرتکب ہوچکا ہے کہ یہاں  فُساق و فُجار تو اپنے اَفعال پر فخر کرتے ہیں  جبکہ مذہب، مذہبی لوگوں  اور ان کے مذہبی افعال کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ 
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ- ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ(۵۹)
ترجمۂکنزالایمان: تم کہو سب خوبیاں  اللہ کو اور سلام اس کے چنے ہوئے بندوں  پر کیا اللہ بہتر یا ان کے ساختہ شریک۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تم کہو: تمام تعریفیں  اللہ کے لئے ہیں اوران بندوں  پر سلام ہو جنہیں  اللہ نے چن لیا ہے۔ کیا اللہ بہتریا ان کے خود ساختہ شریک؟
{قُلِ: تم کہو۔} یہاں  حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے خطاب فرمایا گیا کہ اے حبیب ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ پچھلی امتوں  کی ہلاکت پر اللہ تعالٰی کی حمد بجالائیں  اور اللہ تعالٰی کے چنے ہوئے بندوں  پر سلام بھیجیں ۔ چنے ہوئے بندوں  سے مراد اَنبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہیں ۔ حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے