میں بھی کھلی چھٹی نہیں کہ جب اور جس عورت سے دل چاہا اس سے اپنی شہوت پوری کر لی بلکہ اس میں شریعت نے ایک حد مقرر کی ہے اور کچھ اصول و قوانین نافذ فرمائے ہیں جن کے اندر رہتے ہوئے بندہ عورت سے اپنا فطرتی تقاضا پورا کر سکتا ہے اور فی زمانہ شرعی نکاح کے علاوہ عورت سے فائدہ اٹھانے کی کوئی صورت نہیں ، اور شرعی نکاح کر کے اپنی بیوی سے جائز طریقے کے ساتھ فطرتی تقاضا پورا کرنا انسانی فطرت کے عین مطابق اور بے شمار فوائد کا حامل ہے، جیسے انسانوں کی تعداد میں درست طریقے سے اضافہ ہونا، خاندانی نظام قائم ہونا، معاشرے میں فحاشی اور بے حیائی کا خاتمہ ہو کر ایک پاکیزہ معاشرے کا ترتیب پانا وغیرہ اور جب سے لوگوں نے اپنی فطرت سے بغاوت کرتے ہوئے معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا شروع کیا، مردوں کو مردوں اور عورتوں سے بد فعلی کرنے کی طرف مُنَظّم طریقے سے مائل کیا، فحاشی، عریانی اور بے حیائی کو عام کیا، عورتوں میں پردے کی ذہنیت کوختم کر کے آزاد رَوِش اور روشن خیالی کی سوچ کو پیدا کیا،بد فعلی اور زناکاری کو آسان سے آسان تر کیا حتّٰی کہ بچوں کو اس کی باقاعدہ تربیت دینے کانظام قائم کیا تب سے ان لوگوں کا حال جانوروں سے بھی بدتر ہوتا جا رہا ہے اور یہ لوگ انتہائی خطرناک مسائل اور مُہلِک اَمراض سے دوچار ہونے کے بعد اب اس بات پر مجبور ہو چکے ہیں کہ وہ فطرت سے بغاوت ختم کر دیں اور اپنے معاشرے میں اس نظام کو رائج کریں جو فطرت کے مطابق ہے۔اے کاش! مسلمان بھی ہوش کے ناخن لیں اور یہ بھی اپنی فطرت سے بغاوت نہ کریں اور جو بغاوت کر چکے وہ اس سے باز آجائیں ۔ اللہ تعالٰی انہیں ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْۚ-اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ(۵۶)فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ٘-قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ(۵۷)وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًاۚ-فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠(۵۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہ کہ بولے لوط کے گھرانے کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو ستھراپن چاہتے ہیں ۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت کو ہم نے ٹھہرادیا تھا کہ وہ رہ جانے