کئے گئے حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قول کا ایک معنی یہ ہے کہ کیا تم بدکاری پر اتر آئے ہو حالانکہ تم اس فعل کی قباحت جانتے ہو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ کیا تم بے حیائی پر اتر آئے ہو اور تم ایک دوسرے کے سامنے بے پردہ ہو کراعلانیہ بدفعلی کا اِرتکاب کرتے ہو۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ تم اپنے سے پہلے نافرمانی کرنے والوں کی تباہی اور اُن کے عذاب کے آثار دیکھتے ہو پھر بھی اس بدعملی میں مبتلا ہو۔(1)
نوٹ:حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعے کی بعض تفصیلات سورۂ اَعراف،آیت نمبر 80تا84 اور سورۂ ہود،آیت نمبر77تا83 میں گزر چکی ہیں ۔
اَىٕنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِؕ-بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ(۵۵)
ترجمۂکنزالایمان: کیا تم مَردوں کے پاس مستی سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو بلکہ تم جاہل لوگ ہو۔
{اَىٕنَّكُمْ: کیا تم۔} حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مزید فرمایا کہ کیا تم عورتوں کو چھوڑ کرمردوں کے پاس شہوت پوری کرنے کیلئے جاتے ہو حالانکہ مردوں کے فطرتی تقاضے کی تسکین کے لئے عورتیں بنائی گئی ہیں ، مردوں کے لئے مرد اور عورتوں کے لئے عورتیں نہیں بنائی گئیں ، لہٰذا یہ فعل حکمت ِالٰہی کی مخالفت ہے، بلکہ تم جاہل لوگ ہو جو ایسا کام کرتے ہو اور تمہیں اپنے اس فعل کے برے انجام کا اندازہ نہیں ۔(2)
فطرت سے بغاوت کا نتیجہ:
یاد رہے کہ مردوں کے فطرتی تقاضے یعنی شرمگاہ کی شہوت پوری کرنے کادرست ذریعہ عورت ہے اور اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۵۴، ص۸۵۱، ملخصاً۔
2…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۵۵، ص۸۵۱، ملخصاً۔