توفیق کے ساتھ۔(1)
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’یہ عمل بہت ہی مُجرّب ہے، اِنْ شَآئَ اللہ اس دعا کی برکت سے کوئی بری چیز اثر نہیں کرتی۔(2)
{بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ: بلکہ تم ایک قوم ہو۔} اس کا ایک معنی یہ ہے کہ تم ایسی قوم ہوجنہیں آزمائش میں ڈالا گیا ہے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ تم ایسی قوم ہو جو اپنے گناہوں کے باعث عذاب میں مبتلا ہوئی ہے۔(3)
وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ(۴۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور شہر میں نو شخص تھے کہ زمین میں فساد کرتے اور سنوار نہ چاہتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور شہر میں نو شخص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور اصلاح نہیں کرتے تھے۔
{وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ: اورشہر میں نو شخص تھے۔} یہاں شہر سے مراد قومِ ثمود کا شہر ہے جس کا نام حِجْر تھا۔ اس قوم کے شریف زادوں میں سے نو شخص تھے جو زمین میں اللہ تعالٰی کی نافرمانی کر کے فساد کرتے تھے اور اللہ تعالٰی کی اطاعت کر کے اپنی اصلاح نہ کرتے تھے۔ان کا سردار قدار بن سالف تھا اوریہی وہ لوگ ہیں جوحضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اونٹنی کے پاؤں کی رگیں کاٹنے پر متفق ہوئے تھے۔(4)
قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو داؤد، کتاب الطب، باب فی الطیرۃ، ۴/۲۵، الحدیث: ۳۹۱۹۔
2…مراٰۃ المناجیح، فال اور بدفالی لینے کا بیان، تیسری فصل، ۶/۲۲۲، تحت الحدیث: ۴۳۸۷۔
3…مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۸۵۰۔
4…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۴۸، ۳/ ۴۱۵، ملخصاً۔