اور مصیبتیں آنے کا عمومی سبب بندے کے اپنے برے اعمال ہیں ، جیسا کہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍ‘‘(1)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ تمہارے ہاتھوں کے کمائے ہوئے اعمال کی وجہ سے ہے اور بہت کچھ تو (اللہ) معاف فرما دیتا ہے۔
اور جب ایسا ہے تو کسی چیز سے بد شگونی لینا اور اپنے اوپر آنے والی مصیبت کو اس کی نحوست جاننا درست نہیں اور کسی مسلمان کو تو یہ بات زیب ہی نہیں دیتی کہ وہ کسی چیز سے بد شگونی لے کیونکہ یہ تو مشرکوں کا ساکام ہے جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے تین بار ارشاد فرمایا کہ بد شگونی شرک (یعنی مشرکوں کا سا کام) ہے اور ہمارے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں ،اللہ تعالٰی اسے توکُّل کے ذریعے دور کر دیتا ہے۔(2)
اوپر بیان کردہ درس سے ان لوگوں کوعبرت حاصل کرنی چاہیے جو مصیبتوں اور پریشانیوں کو دوسروں کی نحوست قرار دیتے ہیں جیسے بالفرض اگر شادی کے بعد گھر میں مسائل و مصائب شروع ہوجائیں تو سارا الزام دلہن کے سر ڈال دیا جاتا ہے کہ جب سے یہ منحوس گھر میں آئی ہے تب سے مصیبتوں نے ہمارے گھر کا رستہ دیکھ لیا ہے، وغیرہ۔ اس طرح کی بدشگونی سخت ممنوع اور ایسی دل آزاری سخت حرام ہے۔
بد شگونی کا بہترین علاج:
یہاں معاشرے میں رائج بد فالیوں اور بد شگونیوں کا ایک بہترین علاج ذکر کیا جاتا ہے، چنانچہ حضرت عروہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس شگون کا ذکر کیا گیا تو فرمایا: ’’اس میں (نیک) فال اچھی چیز ہے۔ اور مسلمان کو کسی کام سے نہ روکے تو جب تم میں سے کوئی ناپسندیدہ چیز دیکھے تویوں کہے: ’’اَللّٰہُمَّ لَا یَاْتِیْ بِالْحَسَنَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا یَدْفَعُ السَّیِّئَاتِ اِلَّا اَنْتَ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِکَ‘‘ یعنی اے اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں نہیں لاتا اور تیرے سوا کوئی برائیاں دور نہیں کرتا،نہ ہم میں طاقت ہے اور نہ قوت مگر تیری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شوری:۳۰۔
2…ابو داؤد، کتاب الطب، باب فی الطیرۃ، ۴/۲۳، الحدیث: ۳۹۱۰۔