Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
211 - 608
{قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ: انہوں  نے کہا:ہم نے تم سے برا شگون لیا۔} جب حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجا گیا تو ان لوگوں  نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلایا۔اس کی وجہ سے بارش رک گئی، یوں  وہ لوگ قحط میں  مبتلا ہو گئے اور بھوکے مرنے لگے۔ ان مصائب کو انہوں  نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تشریف آوری کی طرف منسوب کیا اور آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آمد کو بدشگونی سمجھتے ہوئے کہاکہ (مَعَاذَاللہ) ہم تمہیں  اور تمہارے ساتھیوں  کو منحوس سمجھتے ہیں ۔(1)
{قَالَ طٰٓىٕرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ: فرمایا: تمہاری بدشگونی اللہ کے پاس ہے۔} قومِ ثمود کے بدشگونی لینے پر حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا کہ تمہیں  جو بھلائی اور برائی پہنچتی ہے وہ اللہ تعالٰی کے حکم سے ہے اور وہ تمہاری تقدیر میں  لکھی ہوئی ہے۔حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  (آیت میں  ذکر کئے گئے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے قول کا معنی یہ ہے کہ) تمہارے پاس جو بدشگونی آئی یہ تمہارے کفر کے سبب اللہ تعالٰی کی طرف سے آئی ہے۔(2)
بدشگونی لینے کی مذمت:
	یاد رہے کہ بندے کو پہنچنے والی مصیبتیں اس کی تقدیر میں  لکھی ہوئی ہیں ، جیساکہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَاؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌ‘‘(3)
ترجمۂکنزُالعِرفان: زمین میں  اور تمہاری جانوں  میں  جو مصیبت پہنچتی ہے وہ ہمارے اسے پیدا کرنے سے پہلے (ہی) ایک کتاب میں  (لکھی ہوئی) ہے بیشک یہ اللہ پر آسان ہے۔
	اور کوئی مصیبت اللہ تعالٰی کے حکم کے بغیر نہیں  آتی،جیسا کہ فرمانِ باری تعالٰی ہے:
’’مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ‘‘(4)
ترجمۂکنزُالعِرفان: ہر مصیبت اللہ کے حکم سے ہی پہنچتی ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین مع صاوی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۷، ۴/۱۵۰۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۷، ص۸۴۹-۸۵۰، ملتقطاً۔
2…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۴۷، ۳/ ۴۱۵۔
3…حدید:۲۲۔
4…تغابن:۱۱۔