کا اظہار کرنا چاہئے کیونکہ خود پسندی انتہائی مذموم عمل ہے اور اس کی آفات بہت زیادہ ہیں ، ان میں سے چند یہ ہیں کہ اس سے تکبر پیدا ہوتا ہے اور تکبر سے بے شمار آفات جنم لیتی ہیں یونہی خود پسندی کی وجہ سے بندہ اپنے گناہوں کو بھولنے اور انہیں نظر انداز کرنے لگ جاتا ہے جبکہ عبادات اور نیک اعمال کو یاد رکھتا،انہیں بہت بڑ اسمجھتا،ان پر خوش ہوتا اور ان کی بجا آوری کو اندرونِ خانہ غیر شعوری طورپر اللہ تعالٰی پر احسان جانتا ہے۔جوآدمی خود پسندی کا شکار ہوتا ہے تو وہ ا س کی آفات سے اندھا ہو جاتا ہے اور جو شخص اعمال کی آفات سے غافل ہو جائے اس کی زیادہ تر محنت ضائع چلی جاتی ہے کیونکہ ظاہری اعمال جب تک خالص اور (ریاکاری وغیرہ کی) آمیزش سے پاک نہ ہوں تب تک نفع بخش نہیں ہوتے۔ خود پسند آدمی اپنے آپ پر اور اپنی رائے پر مغرور ہوتا اور اللہ تعالٰی کی خفیہ تدبیر اور ا س کے عذاب سے بے خوف ہوجاتا ہے، لہٰذا نعمت اور صلاحیت ملنے پرخود پسندی سے بچنا چاہئے اور اس نعمت اور صلاحیت کے ملنے کو اللہ تعالٰی کے فضل کی طرف منسوب کرنا چاہئے کہ یہ انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور نیک بزرگوں کا طریقہ ہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :ایک مرتبہ نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس مہمان آیا تو آپ نے اپنی اَزواجِ مُطَہّرات کی طرف کسی کو بھیجا تاکہ وہ ان کے پاس کھانا تلاش کرے لیکن اس نے کسی کے پاس بھی کھانا نہ پایا،اس پر رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے دعا مانگی:اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، میں تجھ سے تیرے فضل اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں کیونکہ اس کا مالک تو ہی ہے۔اتنے میں حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں بھنی ہوئی ایک بکری تحفے کے طور پر پیش کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ اللہ تعالٰی کے فضل سے ہے اور ہم ا س کی رحمت کے متظر ہیں ۔(1)
اسی طرح حضرت یوسف عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے توحید پر ہونے اور شرک سے محفوظ رہنے کو اللہ تعالٰی کے فضل کی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ
’’وَ اتَّبَعْتُ مِلَّةَ اٰبَآءِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَؕ-مَا كَانَ لَنَاۤ اَنْ نُّشْرِكَ بِاللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-ذٰلِكَ مِنْ فَضْلِ اللّٰهِ عَلَیْنَا وَ عَلَى
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور میں نے اپنے باپ دادا ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کے دین ہی کی پیروی کی۔ ہمارے لئے ہرگز جائز نہیں کہ ہم کسی چیز کو اللہ کا شریک ٹھہرائیں ، یہ ہم پر اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلیۃ الاولیاء، زبید بن الحارث الایامی، ۵/۴۱، الحدیث: ۶۲۴۴۔