Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
204 - 608
 میں  سے ہے، جیسے انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزات ظاہر کر دینا۔یہ اہلسنّت کے کامل اولیاءِکرام،اصولِ فقہ کے بڑے بڑے علماءِ، فقہاء اور محدثین کا مذہب ہے۔مشرق و مغرب اور عرب و عجم میں  ان کی کتابوں  میں  اس بات کی صراحت موجود ہے۔ پھر اہلسنّت کے جمہور محقق آئمہ کے نزدیک صحیح،ثابت اور مختار قول یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے معجزے کے طور پر جائز ہے وہ اولیاءِ کرام  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامت کے طور پر جائز ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ ا س سے نبوت والا چیلنج کرنا مقصود نہ ہو۔ معجزہ اور کرامت میں  فرق یہ ہے کہ معجزہ نبی سے صادر ہوتا ہے اور کرامت ولی سے۔معجزے کے ذریعے کفار کو چیلنج کیا جا تا ہے جبکہ ولی کو بغیر ضرورت کرامت ظاہر کرنا منع ہے۔ اولیاءِ کرام  رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ثابت ہونے پرقرآنِ پاک اور بکثرت اَحادیث ِمبارکہ میں  دلائل موجود ہیں ۔ قرآن پاک میں  موجود حضرت مریم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے پاس بے موسم کے پھل آنے والا واقعہ۔حضرت مریم  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا کے کھجور کے سوکھے ہوئے تنے کو ہلانے پر پکی ہوئی عمدہ اور تازہ کھجوریں  گرنے والا واقعہ۔اصحابِ کہف  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ کا غار میں  سینکڑوں  سال تک سوئے رہنے والا واقعہ اورحضرت آصف بن برخیا  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کا پلک جھپکنے سے پہلے تخت لانے والا واقعہ ولی سے کرامات ظاہر ہونے کی دلیل ہے۔اسی طرح صحابہ ٔ کرام  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بے شمار کرامتوں  کا ظہور بھی ولی سے کرامت ظاہر ہونے کو ثابت کرتا ہے۔(1)
{ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ : پھرجب سلیمان نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوادیکھا۔} یعنی جب حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اس تخت کو اپنے پاس رکھا ہوادیکھا تو فرمایا: پلک جھپکنے سے پہلے تخت کا میرے پاس آ جانا مجھ پر میرے رب عَزَّوَجَلَّ کے فضل کی وجہ سے ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں  ا س کے انعامات پر شکر کرتا ہوں  یا ناشکری؟ اور جو شکر کرے تووہ اپنی ذات کیلئے ہی شکر کرتا ہے کیونکہ اس شکر کا نفع خود اس شکر گزار کو ہی ملے گا اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا رب عَزَّوَجَلَّ شکر سے بے پرواہ ہے اور ناشکری کرنے والے پر بھی احسان کر کے کرم فرمانے والا ہے۔(2)
خود پسندی کی مذمت اور اللہ تعالٰی کی طرف فضل کو منسوب کرنے کی ترغیب:
	یاد رہے کہ بندے کو جو نعمت اورصلاحیت ملے اس پر اسے خود پسندی کا شکار نہیں  ہونا چاہیے اور نہ ہی اس طرح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روض الریاحین، الفصل الثانی فی اثبات کرامات الاولیاء رضی اللّٰہ تعالی عنہم، ص۳۷-۳۸، ملخصاً۔
2…ابو سعود، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۴/۲۰۲، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ص۸۴۸، ملتقطاً۔