Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
206 - 608
النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَشْكُرُوْنَ‘‘(1)
لوگوں  پر اللہ کا ایک فضل ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں  کرتے۔
	یونہی ہمارے بزرگانِ دین کا معمول تھا کہ جب وہ کوئی کتاب تصنیف فرماتے تو اس میں  آنے والی غلطیوں  اور خطاؤں  کو اپنی طرف منسوب کرتے جبکہ غلطی اور خطا سے محفوظ رہنے کو اللہ تعالٰی کے فضل کی طرف منسوب کرتے، کوئی ان کا حال پوچھتا تواپنا حال درست ہونے کی نسبت اللہ تعالٰی کے فضل کی طرف کرتے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ اللہ تعالٰی کی بارگاہ کے مُقَرّب بندوں  کی پیروی کرتے ہوئے ہر نعمت اور صلاحیت کے ملنے کو اللہ تعالٰی کے فضل کی طرف منسوب کرے اور خود پسندی سے بچے۔اللہ تعالٰی عمل کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔
قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ(۴۱)فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِؕ-قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَۚ-وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ(۴۲)وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِؕ-اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ(۴۳)
ترجمۂکنزالایمان: سلیمان نے حکم دیا عورت کا تخت اس کے سامنے وضع بدل کر بیگانہ کردو کہ ہم دیکھیں  کہ وہ راہ پاتی ہے یا ان میں  ہوتی ہے جو ناواقف رہے۔پھر جب وہ آئی اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے بولی گویا یہ وہی ہے اور ہم کو اس واقعہ سے پہلے خبر مل چکی اور ہم فرمانبردار ہوئے۔اور اسے روکا اس چیز نے جسے وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی بیشک وہ کافر لوگوں  میں  سے تھی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: حضرت سلیمان نے حکم دیا: اس ملکہ کیلئے اس کے تخت کو تبدیل کردوتا کہ ہم دیکھیں  کہ وہ راہ پاتی ہے یا راہ نہ پانے والوں  میں  سے ہوتی ہے۔پھر جب وہ آئی تواس سے کہا گیا: کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ اس نے جواب 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…یوسف:۳۸۔