ابو حیان محمد بن یوسف اندلسی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ انسانوں میں سے ایک شخص تھے اورا ن کا نام حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھا۔ یہ جمہور مفسرین کا قول ہے۔(1)
ابو عبداللہ محمد بن احمد قرطبی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا ا س سے مراد حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔(2)
اور ابو محمد حسین بن مسعود بغوی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اکثر مفسرین نے فرمایا کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا وہ حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ تھے۔(3)
ان تفاسیر کے علاوہ دیگر معتبر تفاسیر جیسے تفسیر سمرقندی جلد 2 صفحہ 497،تفسیر جلالین صفحہ320، تفسیرصاوی جلد4صفحہ1498، تفسیرروح البیان جلد 6 صفحہ 349 میں راجح اور جمہور مفسرین کا یہی قول لکھا ہے کہ جس کے پاس کتاب کا علم تھا اُس سے مراد حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وزیر حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔
{اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَؕ: میں اسے آپ کی بارگاہ میں آپ کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا۔} جب حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی بارگاہ میں اس تخت کو آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے پلک جھپکنے سے پہلے لے آؤں گا تو حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا: ’’اگر تم نے ایسا کر لیا توتم سب سے زیادہ جلدی ا س تخت کو لانے والے ہو گے۔حضرت آصف بن برخیا رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ نے جب اسمِ اعظم کے ذریعے دعا مانگی تو اسی وقت تخت حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے سامنے نمودارہو گیا۔(4)
اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات ظاہر ہونے کا ثبوت:
اس آیت سے اولیاءِکرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔ حضرت علامہ یافعی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اولیاءِ کرام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ سے کرامات کا ظاہر ہونا عقلی طورپر ممکن اور نقلی دلائل سے ثابت ہے۔عقلی طور پر ممکن اس لئے ہے کہ ولی سے کرامت ظاہر کردینا اللہ تعالٰی کی قدرت سے محال نہیں بلکہ یہ چیز ممکنات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البحر المحیط، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷/۷۲-۷۳۔
2…تفسیر قرطبی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۷/۱۵۶، الجزء الثالث عشر۔
3…تفسیر بغوی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۳/۳۵۹۔
4…تفسیر سمرقندی، النمل، تحت الآیۃ: ۴۰، ۲/۴۹۷۔