Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
182 - 608
ترجمۂکنزُالعِرفان: (یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا:میں  نے ایک آ گ دیکھی ہے (تو میں  جاتا ہوں  اور) عنقریب میں  تمہارے پاس اس کی کوئی خبر لاتا ہوں  یا کوئی چمکتی ہوئی چنگاری لاؤں  گا تاکہ تم گرمی حاصل کرو۔ پھر جب موسیٰ آگ کے پاس آئے تو (انہیں ) ندا کی گئی کہ اُس (موسیٰ) کو جو اس آگ کی جلوہ گاہ میں  ہے اور جو اس (آگ) کے آس پاس (فرشتے) ہیں  انہیں  برکت دی گئی اور اللہ پاک ہے جو سارے جہانوں  کا رب ہے۔ اے موسیٰ !بات یہ ہے کہ میں  ہی اللہ ہوں  جوعزت والا حکمت والا ہے۔ اور اپنا عصا (زمین پر) ڈال دو توجب آپ نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا کہ گویا سانپ ہے تو پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ (ہم نے فرمایا) اے موسیٰ! ڈرو نہیں ، بیشک میری بارگاہ میں  رسول ڈرتے نہیں ۔ لیکن جس شخص نے کوئی ز یادتی کی پھر برائی کے بعد (اپنے عمل کو) نیکی سے بدل دیا تو بیشک میں  بخشنے والا مہربان ہوں۔اور اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں  ڈالوتووہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا، (یہ بھی) فرعون اور اس کی قوم کی طرف نو نشانیوں  میں  سے ہے، بیشک وہ (فرعونی) نافرمان لوگ تھے۔
{اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ: جب موسیٰ نے اپنی گھر والی سے کہا۔} یہاں  سے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ایک واقعہ بیان فرمایا جارہا ہے۔چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی 5 آیات میں  بیان کئے گئے واقعے کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام مَدْیَن سے مصر کی طرف جا رہے تھے، دورانِ سفر یوں  ہواکہ رات کے وقت کافی اندھیرا اور برف باری ہونے کی وجہ سے سخت سردی تھی،آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام راستہ بھی بھول گئے تھے اور اسی رات آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ مطہرہ کودردِ زِہ (یعنی بچے کی ولادت کا درد) بھی شروع ہو گیا۔ اسی حال میں  حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے دور سے ایک روشنی ملاحظہ فرمائی۔آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی گھر والی سے کہا:میں  نے ایک آگ دیکھی ہے، تم یہیں  ٹھہرو، میں  ا س طرف جاتا ہوں  اور تھوڑی دیر میں  تمہارے پاس راستے کی کوئی خبر لاتا ہوں  یا اس میں  سے کوئی چمکتی ہوئی چنگاری لے آؤں  گا تاکہ تم اس سے گرمی حاصل کرو اور سردی کی تکلیف سے امن پاؤ۔ جب حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس آگ کے پاس آئے تو انہیں ندا کی گئی کہ اُس موسیٰ کوبرکت دی گئی جو اِس آگ کی جگہ میں  ہے اور جو اِس آگ کے آس پاس فرشتے ہیں  انہیں  برکت دی گئی اور اللہ تعالٰی پاک ہے جو سارے جہانوں  کا رب ہے۔اے موسیٰ !بات یہ ہے کہ میں  ہی اللہ ہوں  جوعزت والا حکمت والاہے اور اپنا عصا زمین پرڈال دو۔چنانچہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اللہ تعالٰی