کے حکم سے عصا ڈال دیا تو وہ سانپ بن گیا۔جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اسے لہراتے ہوئے دیکھا توآپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خوف کی وجہ سے پیٹھ پھیر کر چلے اور مڑ کر نہ دیکھا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا:اے موسیٰ !ڈرو نہیں ، بیشک میری بارگاہ میں سانپ یا کسی اور چیز سے رسول ڈرتے نہیں ، جب میں انہیں امن دوں تو پھر کسی چیز کا کیا اندیشہ ہے،لیکن جس شخص نے کوئی ز یادتی کی اس کو ڈر ہوگا یہاں تک کہ وہ اس سے توبہ کر لے اور برائی کے بعد اپنے عمل کونیکی سے بدل دے تو بیشک میں بخشنے والا مہربان ہوں ، توبہ قبول فرماتا ہوں اور بخش دیتا ہوں ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دوسری نشانی دکھائی گئی اور فرمایا گیا’’ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال کر باہر نکالوتووہ بغیر کسی عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اس وقت صُوف کا جبہ پہنے ہوئے تھے، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تووہ سورج کی شعاعوں کی طرح چمک رہا تھا۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ یہ بھی فرعون اور اس کی قوم کی طرف بھیجتے وقت اللہ تعالٰی کی دی ہوئی نو نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، بیشک وہ فرعونی نافرمان لوگ ہیں اور کفر و سرکشی میں حد سے بڑھ چکے ہیں ۔ (1)
{یٰمُوْسٰۤى: اے موسیٰ۔} یاد رہے کہ اس ندا سے اور اِس واقعے سے ولایت و معرفت کے بہت سے اَسرار اَخذ کئے گئے ہیں ۔
{ فِیْ تِسْعِ اٰیٰتٍ: نو نشانیوں میں سے۔} حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جو نونشانیاں عطا کی گئیں وہ یہ ہیں : (1) عصا۔(2)ید ِبَیضا۔(3) بولنے میں دِقّت جو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زبان مبارک میں تھی پھر اللہ تعالٰی نے اسے دور فرمادیا۔(4) دریاکا پھٹنا اوراس میں رستے بننا۔ (5)طوفان۔(6) ٹڈی۔(7) گُھن۔(8) مینڈک۔(9) خون۔(2) اس رکوع میں پہلی دو نشانیاں بیان کی گئی ہیں ، جبکہ ان میں سے آخری6 نشانیوں کا مُفَصّل بیان نویں پارے کے چھٹے رکوع میں گزر چکاہے۔
فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ اٰیٰتُنَا مُبْصِرَةً قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ مُّبِیْنٌۚ(۱۳) وَ جَحَدُوْا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۷-۱۲، ۳/۴۰۱-۴۰۲، روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۱۲، ۶/۳۲۴، ملتقطاً۔
2…خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۱۰۱، ۳/۱۹۴۔