کا برا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں کہ ان کا انجام دائمی عذاب ہے۔(1)
وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ عَلِیْمٍ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور بیشک تم قرآن سکھائے جاتے ہو حکمت والے علم والے کی طرف سے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو قرآن سکھایا جاتا ہے حکمت والے، علم والے کی طرف سے۔
{وَ اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ: اور (اے محبوب!) بیشک آپ کو قرآن سکھایا جا تا ہے۔} ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی طرف سے قرآن مجید کی آیات نہیں بناتے بلکہ آپ کو اس رب تعالٰی کی طرف سے قرآن سکھایا جاتا ہے جو حکمت والا اور علم والا ہے، لہٰذا کفار کا یہ اعتراض غلط اور باطل ہے کہ آپ اپنی طرف سے قرآن پاک کی آیتیں بناتے ہیں ۔(2)
حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے استاد نہیں :
اس سے معلوم ہوا کہ حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام حضور ِاقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے استاد نہیں بلکہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ تعالٰی سے سیکھا ہے جبکہ حضر ت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام خادم اور قاصد بن کر تشریف لاتے رہے۔ یہ بھی پتہ لگا کہ حضورِاکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی طرح قرآن کوئی نہیں سمجھ سکتا کیوں کہ سب لوگ مخلوق سے قرآن سیکھتے ہیں اور حضورِ انور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خالق سے سیکھا۔
اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِاَهْلِهٖۤ اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًاؕ-سَاٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ اٰتِیْكُمْ بِشِهَابٍ قَبَسٍ لَّعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ(۷)فَلَمَّا جَآءَهَا نُوْدِیَ اَنْۢ بُوْرِكَ مَنْ فِی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابو سعود ، النمل ، تحت الآیۃ : ۴-۵ ، ۴/۱۸۶ ، مدارک ، النمل ، تحت الآیۃ: ۴-۵، ص۸۳۷-۸۳۸، جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۴-۵، ص۳۱۷، ملتقطاً۔
2…روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۶، ۶/۳۲۰، ملخصاً۔