جملہ حقوق کی حفاظت کرتے ہیں اور جب ان کے مال پر زکوٰۃ فرض ہو جائے تو خوش دلی سے زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔(1)
اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ زَیَّنَّا لَهُمْ اَعْمَالَهُمْ فَهُمْ یَعْمَهُوْنَؕ(۴) اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ لَهُمْ سُوْٓءُ الْعَذَابِ وَ هُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْاَخْسَرُوْنَ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: وہ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے کوتک ان کی نگاہ میں بھلے کر دکھائے ہیں تووہ بھٹک رہے ہیں ۔ یہ وہ ہیں جن کے لیے بُرا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے بڑھ کر نقصان میں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے ہم نے ان کے برے اعمال ان کی نگاہ میں خوشنما بنا دئیے ہیں تو وہ بھٹک رہے ہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے برا عذاب ہے اور یہی آخرت میں سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والے ہیں ۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ: بیشک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔} ا س سے پہلی آیتوں میں ایمان والوں کے حالات بیان کئے گئے اور ا س آیت سے کافروں کے حالات بیا ن کئے جا رہے ہیں ، چنانچہ ا س آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جو آخر ت پر اور قرآن پاک میں قیامت کے دن ملنے والے نیک اعمال کے جو ثواب اور برے اعمال کے جو عذاب بیان کئے گئے ہیں ، ان پر ایمان نہیں لاتے، ہم نے ان کے برے اعمال ان کی نگاہ میں خوشنما بنادئیے ہیں کہ وہ اپنی برائیوں کوخواہشات کی وجہ سے بھلائی جانتے ہیں ، پس وہ اپنی گمراہی میں بھٹک رہے ہیں اور ان کے پاس بصیر ت نہیں جس کے ذریعے وہ اچھائی اور برائی میں امتیاز کر سکیں ۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے دنیا میں قتل اورگرفتاری
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرطبری، النمل، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۹/۴۹۴، خازن، النمل، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۳/۴۰۱، روح البیان، النمل، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۶/۳۱۹، ملتقطاً۔