Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
178 - 608
طٰسٓ- تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ وَ كِتَابٍ مُّبِیْنٍۙ(۱)
ترجمۂکنزالایمان: یہ آیتیں  ہیں  قرآن اور روشن کتاب کی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: طس، یہ قرآن اور روشن کتاب کی آیتیں  ہیں ۔
{ طٰسٓ} یہ حروفِ مُقَطَّعات میں  سے ایک حرف ہے، اس کی مراد اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے۔ 
{تِلْكَ اٰیٰتُ الْقُرْاٰنِ: یہ قرآن کی آیتیں  ہیں ۔} ارشاد فرمایا کہ یہ سورت قرآن اوراس روشن کتاب کی آیتیں  ہیں  جو حق اور باطل میں  امتیاز کرتی ہے اور جس میں  علوم اور حکمتیں  امانت رکھی گئی ہیں ۔ یہاں  روشن کتاب سے مراد لوحِ محفوظ ہے یا اس سے مراد بھی قرآنِ پاک ہی ہے اور یہ قرآنِ مجید کی صفت ہے۔(1)
هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَۙ(۲) الَّذِیْنَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: ہدایت اور خوشخبری ایمان والوں  کو۔وہ جو نماز برپا رکھتے ہیں  اور زکوٰۃ دیتے ہیں  اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: ایمان والوں  کیلئے ہدایت اور خوشخبری ہے۔ وہ جو نمازقائم رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں ۔
{هُدًى وَّ بُشْرٰى: ہدایت اور خوشخبری ہے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن ان لوگوں  کے لئے ہدایت اور بشارت ہے جو ا س پر ایمان لاتے ہیں ، فرض نمازیں  ہمیشہ پڑھتے ہیں  اور نمازکی شرائط و آداب اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، النمل، تحت الآیۃ: ۱، ص۳۱۷، مدارک، النمل، تحت الآیۃ: ۱، ص۸۳۷، ملتقطاً۔