عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔ (5) حضرت لوط عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ان کی قوم کا واقعہ۔
(3) …اللہ تعالٰی کے وجود اور ا س کی وحدانیت پر دلائل بیان کئے گئے کہ اس نے زمین و آسمان اور بحر وبَر کو پیدا کیا، زمین کے خزانوں سے فائدہ اٹھانے کا انسان کو اِلہام کیا،خشکی اور تری کی اندھیریوں میں انسان کو راہ دکھائی اور اسے کثیر رزق عطا کیا۔یہ بتایاگیا کہ قیامت کی ہَولناکیاں اچانک آ جائیں گی، نیز اللہ تعالٰی کے علم کی وسعت اور دن اور رات کے آنے جانے سے اللہ تعالٰی کی وحدانِیّت پر اِستدلال کیا گیا۔
(4) … مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر و نشر کا انکار کرنے والے مشرکین کا رد کیا گیا۔
(5) …قیامت کی چند علامات بیان کی گئی جیسے دَآبَّۃُ الْاَرْضْ کا نکلنا،پہاڑوں کا اُڑنا اور صُور میں پھونک ماری جانا وغیرہ۔
(6) …قیامت کے دن لوگوں کی دو اَقسام اور ان کی جزاء بیان کی گئی۔
سورۂ شعراء کے ساتھ مناسبت:
سورۂ نمل کی اپنے سے ماقبل سورت’’شعراء ‘‘ کے ساتھ ایک مناسبت یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں کی ابتداء میں قرآنِ پاک کا وصف بیان ہوا ہے۔ دوسری مناسبت یہ ہے کہ سورۂ شعراء کی طرح سورۂ نمل میں بھی انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان ہوئے البتہ سورۂ نمل میں مزید حضرت سلیمان اور حضرت داؤد عَلَیْہِمَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ بیان کیا گیا تو گویا کہ سورۂ نمل سورۂ شعراء کا تتمہ ہے۔تیسری مناسبت یہ ہے کہ ان دونوں سورتوں میں انبیاءِ کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے واقعات بیان کر کے حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں پر تسلی دی گئی ہے۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، رحمت والاہے۔