سُورَۃُالْنَّمْل
سورۂ نمل کا تعارف
مقامِ نزول:
سورۂ نمل مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے۔(1)
آیات،کلمات اورحروف کی تعداد:
اس میں 7 رکوع، 93 آیتیں ، 1317 کلمے اور4799 حروف ہیں ۔(2)
’’نمل ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
نَمْل کا معنی ہے چیونٹی،اور اس سورت کی آیت نمبر 18میں ایک چیونٹی کا ایک واقعہ بیان کیاگیا ہے اس مناسبت سے ا س سورت کا نام ’’سورۂ نمل‘‘ رکھا گیا۔
سورۂ نمل کے مَضامین:
اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں وہ اُمور بیان کئے گئے ہیں جن کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شخص اللہ تعالٰی پر ایمان لے آئے، اسے اپنا رب اور اپنا واحد معبود مان لے، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے، مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حشر ونشر کی تصدیق کرے اور قرآن پاک کو اللہ تعالٰی کا کلام مانے،مزید اس میں یہ چیزیں بیان کی گئی ہیں ۔
(1) …اس کی ابتداء میں قرآن پاک کے اوصاف بیان کئے گئے،نیک اعمال کرنے والے مسلمانوں کوجنت کی بشارت دی گئی اور آخرت کا انکار کرنے والوں کو آخرت میں سب سے بڑے نقصان اور برے عذاب کی وعید سنائی گئی۔
(2) …یہ پانچ واقعات بیان کئے گئے ہیں ۔ (1) حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا واقعہ۔(2)حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اورچیونٹی کا واقعہ۔(3)حضرت سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور ملکۂ بلقیس کا واقعہ۔(4) حضرت صالح
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، سورۃ النمل، ص۸۳۷۔
2…مدارک، سورۃ النمل، ص۸۳۷، خازن، تفسیر سورۃ النمل، ۳/۴۰۰، ملتقطاً۔