اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ اور اولیاءِ عظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کی عظمت پیدا کرنے کا ایک ذریعہ ہے، لہٰذا اس کا بھی مطالعہ کرنا چاہئے۔
{وَ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا: اورمظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا۔} یعنی اگر ان کے اشعار میں کسی کی برائی بیان بھی ہوئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کفارنے مسلمانوں کی اور اُن کے پیشواؤں کی جھوٹی برائی بیان کر کے ان پر ظلم کیا تو ان حضرات نے شعروں کے ذریعے ا س ظلم کا بدلہ لیا اور کافروں کو اشعار کی صورت میں ان کی بدگوئیوں کے جواب دیئے، لہٰذا وہ مذموم نہیں ہیں ۔(1) بلکہ وہ اس پر اجرو ثواب کے مستحق ہیں کیونکہ یہ ان حضرات کا زبان سے جہاد ہے۔
زبانی جہاد سے متعلق دو اَحادیث:
آیت کی مناسبت سے یہاں زبانی جہاد سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’تم اپنے مالوں ،اپنے ہاتھوں اور اپنی زبانوں کے ساتھ مشرکوں سے جہاد کرو۔(2)
(2)…حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مومن اپنی تلوار سے بھی جہاد کرتا ہے اور اپنی زبان سے بھی،اور اس ذات کی قسم!جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے،تم اسی شعر سے ان کفار کو تیروں کے مارنے کی طرح مارتے ہو۔(3)
{وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا: اورعنقریب ظالم جان لیں گے۔} یعنی جن مشرکین نے حضور سیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی جھوٹی برائیاں بیان کی ہیں حالانکہ ان کی شان تو یہ ہے کہ وہ پاک ہیں اور پاک کرنے والے ہیں تو یہ مشرکین عنقریب مرنے کے بعد جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’وہ جہنم کی طرف پلٹا کھائیں گے اورجہنم بہت ہی برا ٹھکانا ہے۔(4)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…روح البیان ، الشعراء ، تحت الآیۃ : ۲۲۷ ، ۶/۳۱۶، خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۷، ۳/۴۰۰، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۷، ص۳۱۷۔
2…سنن نسائی، کتاب الجہاد، باب وجوب الجہاد، ص۵۰۳، الحدیث: ۳۰۹۳۔
3…مسند امام احمد، من مسند القبائل، حدیث کعب بن مالک رضی اللّٰہ عنہ، ۱۰/۳۳۵، الحدیث: ۲۷۲۴۴۔
4…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۷، ۳/۴۰۰۔