ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر وہ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے اعمال کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اورمظلوم ہونے کے بعد بدلہ لیا اورعنقریب ظالم جان لیں گے کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: مگر وہ جو ایمان لائے۔} اس آیت میں مسلمان شاعروں کا اِستثناء فرمایا گیا کیونکہ ان کے کلام میں کافر شاعروں کی طرح مذموم باتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ اشعار کی صورت میں اللہ تعالٰی کی حمد لکھتے ہیں ،حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نعت لکھتے ہیں ، دین ِاسلام کی تعریف لکھتے ہیں ،وعظ و نصیحت لکھتے ہیں اور اس پر اجرو ثواب پاتے ہیں ۔(1)
دربارِ رسالت کے شاعر حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی شان :
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُا فرماتی ہیں ،رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد ِنَبوی شریف میں حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کے لئے منبر رکھواتے تھے۔حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ اس پر کھڑے ہو کر (اشعار کی صورت میں ) رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی تعریف و توصیف بیان کرتے اورکفار کی بدگوئیوں کا جواب دیتے تھے اورحضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ (ان کے حق میں )فرماتے تھے کہ جب تک حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کفار کی بدگوئیوں کا جواب دے رہے ہوتے ہیں اللہ تعالٰی حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے ان کی مدد فرماتا ہے۔(2)
ایک اور روایت میں ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے فرماتے: ’’تم اللہ تعالٰی کے رسول کی طرف سے (کفار کی بد گوئیوں کا) جواب دو۔ (پھر دعا فرماتے) اے اللہ! عَزَّوَجَلَّ، تو حضرت حسان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ کی حضرت جبریل عَلَیْہِ السَّلَام کے ذریعے مدد فرما۔(3)
اشعار فی نفسہٖ بُرے نہیں :
یاد رہے کہ اشعار فی نفسہ برے نہیں کیونکہ وہ ایک کلام ہے، اگر اشعار اچھے ہیں تووہ اچھا کلا م ہے اور برے اشعار ہیں تو وہ برا کلام ہے، جیساکہ حضرت عروہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسول اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۷، ۳/۳۹۹، ملخصاً۔
2…ترمذی، کتاب الادب، باب ما جاء فی انشاد الشعر، ۴/۳۸۵، الحدیث: ۲۸۵۵۔
3…بخاری، کتاب الادب، باب ہجاء المشرکین، ۴/۱۴۲، الحدیث: ۶۱۵۲۔