حضرت بریدہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اسلام میں فحش اور بے حیائی پر مشتمل اشعار کہے تو ا س کی زبان ناکارہ ہے۔(1) اور ایک روایت میں ہے کہ اس کا خون رائیگاں گیا۔(2)
اللہ تعالٰی ایسے لوگوں کو ہدایت عطا فرمائے،اٰمین۔
{ فِیْ كُلِّ وَادٍ یَّهِیْمُوْنَ: شاعر ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں ۔} یعنی عرب کے شاعر کلام اور فن کی ہر قسم میں شعر کہتے ہیں ،کبھی وہ اشعار کی صورت میں کسی کی تعریف کرتے ہیں اور کبھی کسی کی مذمت و برائی بیان کرتے ہیں ۔ان کے اشعار میں اکثر بے حیائی کی باتیں ، گالی گلوچ،لعن طعن،بہتان اور الزام تراشی، فخر و تکبر کا اظہار،حسد،خود پسندی، فضیلت کا اظہار، تذلیل،توہین،برے اخلاق اور ایک دوسرے کے نسبوں میں طعن کرنا وغیرہ مذموم چیزیں ہوتی ہیں ۔(3)
{وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ: اور وہ ایسی بات کہتے ہیں ۔} یہاں شاعروں کے قول اور عمل میں تضاد بیا ن کیا گیا کہ وہ اپنے اشعار میں سخاوت کی تعریف بیان کرتے اور اس کی ترغیب دیتے ہیں لیکن خود سخاوت کرنے سے اِعراض کرتے ہیں اور بخل کی مذمت بیان کرتے ہیں جبکہ خود انتہائی کنجوسی سے کام لیتے ہیں ۔اگر کسی کے آباء و اَجداد میں سے کسی نے کوئی چھوٹی سی غلطی کی ہو تو اس کی وجہ سے لوگوں کی برائی بیان کرتے ہیں اور پھر خود بے حیائی کے کام کرنے لگ جاتے ہیں۔(4)
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ ذَكَرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا وَّ انْتَصَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْاؕ-وَ سَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْۤا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ۠(۲۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: مگر وہ جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے اور بکثرت اللہ کی یاد کی اور بدلہ لیا بعد اس کے کہ ان پر ظلم ہوا اور اب جانا چاہتے ہیں ظالم کہ کس کروٹ پر پلٹا کھائیں گے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الایمان ، الرابع و الثلاثون من شعب الایمان ۔۔۔ الخ ، فصل فی حفظ اللسان عن الشعر الکاذب ، ۴/ ۲۷۶ ، الحدیث: ۵۰۸۸۔
2…کنز العمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال، ۲/۲۳۰، الحدیث: ۷۹۷۲، الجزء الثالث۔
3…روح البیان، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۵، ۶/۳۱۶، ملخصاً۔
4…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۶، ۳/۳۹۹، تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۶، ۸/۵۳۸، ملتقطاً۔