Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
171 - 608
ترجمۂکنزالایمان: اور شاعروں  کی پیرو ی گمراہ کرتے ہیں ۔ کیا تم نے نہ دیکھا کہ وہ ہر نالے میں  سرگرداں  پھرتے ہیں ۔ اور وہ کہتے ہیں  جو نہیں  کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور شاعروں  کی پیرو ی توگمراہ لوگ کرتے ہیں ۔ کیا تم نے نہ دیکھا کہ شاعر ہر وادی میں  بھٹکتے پھرتے ہیں ۔ اور یہ کہ وہ ایسی بات کہتے ہیں  جو کرتے نہیں ۔
{وَ الشُّعَرَآءُ: اور شاعر۔} شانِ نزول: یہ آیت کفار کے ان شاعروں  کے بارے میں  نازل ہوئی جورسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے خلاف شعر بناتے اور یہ کہتے تھے کہ جیسا محمد صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کہتے ہیں  ایسا ہم بھی کہہ لیتے ہیں  اور اُن کی قوم کے گمراہ لوگ اُن سے ان اَشعار کو نقل کرتے تھے۔ اس آیت میں  ان لوگوں  کی مذمت فرمائی گئی ہے کہ شاعروں  کی اُن کے اشعار میں  پیرو ی توگمراہ لوگ کرتے ہیں  کہ اُن اشعار کو پڑھتے ہیں ، رواج دیتے ہیں  حالانکہ وہ اشعار جھوٹے اورباطل ہوتے ہیں ۔(1)
غلط شاعری کرنے والوں  اور سننے، پڑھنے والوں  کو نصیحت:
	اس سے معلوم ہو اکہ شاعروں  کا جھوٹے اور باطل اَشعار لکھنا،انہیں  پڑھنا،دوسروں  کو سنانا اورانہیں  معاشرے میں  رائج کرنا گمراہ لوگوں  کا کام ہے، اس سے ان لوگوں  کو نصیحت حاصل کرنی چاہئے جو ایسے اشعار لکھتے ہیں  جن میں  اللہ تعالٰی اورنبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی توہین،دین ِاسلام اور قرآن کا مذاق اڑانے اور اللہ تعالٰی کی بارگاہ کے مقرب بندوں  کی شان میں  گستاخی کے کلمات ہوتے ہیں ، یونہی بے حیائی، عُریانی اور فحاشی کی ترغیب پر مشتمل نیز عورت اور مرد کے نفسانی جذبات کو بھڑکانے والے الفاظ کے ساتھ شاعری کرتے ہیں  اور ان کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی نصیحت حاصل کریں  جو ان کی بیہودہ شاعری سنتے، پڑھتے اوردوسروں  کو سناتے ہیں ۔ 
	حضرت عبداللہ بن عمر  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم میں  سے کسی شخص کا پیٹ  پیپ سے بھر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں  سے بھرا ہوا ہو۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۲۴، ۳/۳۹۸-۳۹۹، ملخصاً۔
2…بخاری، کتاب الادب، باب ما یکرہ ان یکون الغالب علی الانسان الشعر۔۔۔ الخ، ۴/۱۴۲، الحدیث: ۶۱۵۴۔