اَلْمُلْكُ یَوْمَىٕذِ ﹰالْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِؕ-وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا(۲۶)
ترجمۂکنزالایمان: اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہے اور وہ دن کافروں پر سخت ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن سچی بادشاہی رحمن کی ہوگی اور کافروں پر وہ بڑا سخت دن ہوگا۔
{اَلْمُلْكُ: بادشاہی۔} یعنی قیامت کے دن سچی بادشاہی رحمن عَزَّوَجَلَّ کی ہوگی اور ا س دن اللہ تعالٰی کے علاوہ کوئی بادشاہ نہ ہوگا اور وہ دن کافروں پر بڑا سخت اور انتہائی شدید ہوگا۔
اللہ تعالٰی کے فضل سے قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان ہو گا:
علامہ علی بن محمد خازن رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’اس آیت سے ثابت ہو اکہ اللہ تعالٰی کے فضل سے قیامت کا دن مسلمانو ں پر آسان ہو گا۔(1)
احادیث میں بھی قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان ہونے کے بارے میں بیان کیا گیا ہے،چنانچہ یہاں اس سے متعلق دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،
(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں عرض کی گئی کہ قیامت کا دن پچاس ہزار سال کی مقدار کے برابر ہو گا تو یہ دن کتنا طویل ہو گا! نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے ! قیامت کا دن مسلمانوں پر آسان کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ اُن کے لئے ایک فرض نماز سے ہلکا ہوگا جو دنیا میں پڑھی تھی۔(2)
(2)… حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کے دن لوگ سب جہانوں کے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور اس دن کے نصف تک کھڑے ہوں گے جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے، مسلمانوں کے لئے وہ دن اتنا آسان گزرے گا جتنا وقت سورج کے غروب کی طرف مائل ہونے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۶، ۳/۳۷۱۔
2…مسند امام حمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللہ عنہ، ۴/۱۵۱، الحدیث: ۱۱۷۱۷۔