Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
16 - 608
ترجمۂکنزالایمان: جنت والوں  کا اس دن اچھا ٹھکانا اور حساب کے دوپہر کے بعد اچھی آرام کی جگہ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جنت والے اس دن ٹھکانے کے اعتبار سے بہتر اور آرام کے اعتبار سے سب سے اچھے ہوں  گے۔
{اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ: جنت والے۔} اس سے پہلی آیات میں  کفار کے کامل خسارے اور مکمل طور پر ناکامی کا ذکر کیا گیا، اب اس آیت میں  قیامت کے دن اہلِ جنت پر ہونے والے انعامات کا ذکر کر کے یہ بتایا گیا ہے کہ اُخروی کامیابی صرف اللہ تعالٰی کی اطاعت کرنے میں  ہے۔آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنت والے یعنی مومنین قیامت کے دن ان مغرور، متکبر مشرکوں  کے مقابلے میں  ٹھکانے کے اعتبار سے بہتر اور آرام کے اعتبار سے سب سے اچھے ہوں  گے۔(1)
وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ وَ نُزِّلَ الْمَلٰٓىٕكَةُ تَنْزِیْلًا(۲۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن پھٹ جائے گا آسمان بادلوں  سے اور فرشتے اُتارے جائیں  گے پوری طرح۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن آسمان بادلوں  سمیت پھٹ جائے گا اور فرشتے پوری طرح اتارے جائیں  گے۔
{وَ یَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآءُ بِالْغَمَامِ: اور جس دن آسمان بادلوں  سمیت پھٹ جائے گا۔} حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’(جب قیامت قائم ہو گی تو ا س دن) پہلے آسمانِ دنیا پھٹے گا اور وہاں  کے رہنے والے فرشتے زمین پر اتریں  گے اور ان کی تعداد زمین کے جن و اِنس سب سے زیادہ ہو گی، پھر دوسرا آسمان پھٹے گا اوروہا ں  کے رہنے والے فرشتے اتریں  گے، وہ آسمانِ دنیا کے رہنے والوں  سے اور جن واِنس سب سے زیادہ ہیں ، اسی طرح آسمان پھٹتے جائیں  گے اور ہر آسمان والوں  کی تعداد اپنے ماتحتوں  سے زیادہ ہے یہاں  تک کہ ساتواں  آسمان پھٹے گا، پھر کرّوبین (یعنی فرشتوں  کے سردار) اتریں  گے، پھر عرش اٹھانے والے فرشتے اتریں  گے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…تفسیرکبیر ، الفرقان ، تحت الآیۃ : ۲۴ ،  ۸/۴۵۱ ، خازن ، الفرقان ، تحت الآیۃ : ۲۴، ۳/۳۷۰، روح البیان، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۴، ۶/۲۰۲، ملتقطاً۔
2…خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۵، ۳/۳۷۰۔