Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
18 - 608
سے لے کر ا س کے غروب ہونے تک لگتا ہے۔(1)
وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا(۲۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا چبا لے گا کہ ہائے کسی طرح سے میں  نے رسول کے ساتھ راہ لی ہوتی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھ چبا ئے گا، کہے گا : اے کاش کہ میں  نے رسول کے ساتھ راستہ اختیار کیا ہوتا۔
{وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ: اور جس دن ظالم اپنے ہاتھوں  پر کاٹے گا۔} ارشاد فرمایا کہ وہ وقت یاد کریں  جس دن ظالم حسرت و ندامت کی وجہ سے اپنے ہاتھوں  پر کاٹے گا اورکہے گا : اے کاش کہ میں  نے رسول کے ساتھ جنت و نجات کاراستہ اختیار کیا ہوتا، ان کی پیروی کیا کرتا اور ان کی ہدایت کو قبول کیا ہوتا۔
	یہ حال اگرچہ کفار کے لئے عام ہے مگر عقبہ بن ابی معیط سے اس کا خاص تعلق ہے۔ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ عقبہ بن ابی معیط اُبی بن خلف کا گہرا دوست تھا، حضورسیّد المرسَلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ارشاد فرمانے سے اُس نے لَا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کی شہادت دی اور اس کے بعد اُبی بن خلف کے زور ڈالنے سے پھر مُرتَد ہوگیا، سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اسے قتل ہوجانے کی خبر دی، چنانچہ وہ بدر میں  مارا گیا۔ اس کے بارے میں  یہ آیت نازل ہوئی کہ قیامت کے دن اس کو انتہا درجہ کی حسرت و ندامت ہوگی اوراس حسرت میں  وہ اپنے ہاتھوں  کو کاٹنے لگے گا۔(2)
یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا(۲۸)لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مسند ابو یعلی، مسند ابی ہریرۃ، ۵/۳۰۸، الحدیث: ۵۹۹۹۔
2…مدارک، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۷، ص۸۰۰، خازن، الفرقان، تحت الآیۃ: ۲۷، ۳/۳۷۱، ملتقطاً۔