Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
167 - 608
تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو قریبی رشتہ داروں  کو اسلام کی تبلیغ کرنے کا حکم دیا۔ حضور اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قریبی رشتہ دار بنی ہاشم اور بنی مُطَّلِب ہیں ۔ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اُنہیں  اعلانیہ اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرایا اور خدا کا خوف دلایا۔(1)
	حضرت عبداللہ بن عباس  رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں : ’’جب یہ آیت ِکریمہ نازل ہو ئی تو نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوہِ صفا پر چڑھے اور آپ نے آواز دی ’’اے بنی فہر،اے بنی عدی، قریش کی شاخو!یہاں  تک کہ تمام لوگ جمع ہو گئے اور جو خود نہ جا سکا اس نے اپنا نمائندہ بھیج دیا تاکہ آکر بتائے کہ بات کیا ہے۔ابو لہب بھی آیا اور سارے قریش آئے۔ (جب سب جمع ہو گئے تو) آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ’’اگر میں  آپ لوگوں  سے کہوں  کہ وادی کے اس طرف ایک لشکر ِجَرّار ہے جو آپ پر حملہ کرنا چاہتا ہے تو کیا آپ مجھے سچا جانو گے؟سب نے کہا :ہاں ! کیونکہ ہم نے آپ سے ہمیشہ سچ بولنا ہی سنا ہے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میں  آپ لوگوں  کو قیامت کے سخت عذاب سے ڈراتا ہوں  جو سب کے سامنے ہے۔یہ سن کر ابو لہب بکواس کرتے ہوئے کہنے لگا’’ کیا ہمیں  اسی لئے جمع کیا ہے۔اس وقت یہ سورت نازل ہوئی:
’’ تَبَّتْ یَدَاۤ اَبِیْ لَهَبٍ وَّ تَبَّؕ(۱) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُ مَالُهٗ وَ مَا كَسَبَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: ابو لہب کے دونوں  ہاتھ تباہ ہوجائیں  اور وہ تباہ ہوہی گیا۔ اس کا مال اور اس کی کمائی اس کے کچھ کام نہ آئی۔(2)
{وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ: اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ۔} اس آیت ا ور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنی قوم کو ڈر سنائیں  ا س کے بعدجو لوگ صدق و اِخلاص کے ساتھ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان لائیں  خواہ وہ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے رشتہ داری رکھتے ہوں  یا نہ رکھتے ہوں ، ان پر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ لطف و کرم فرمائیں  اور جو لوگ آپ کا حکم نہ مانیں  تو آپ ان سے اور ان کے اعمال سے بیزاری کا اظہار کر دیں ۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۴، ص۳۱۶۔
2…بخاری، کتاب التفسیر، سورۃ الشعراء، باب وانذر عشیرتک الاقربین ۔۔۔ الخ، ۳/۲۹۴، الحدیث: ۴۷۷۰۔
3…خازن،الشعراء،تحت الآیۃ:۲۱۵-۲۱۶،۳/۳۹۷-۳۹۸، مدارک،الشعراء،تحت الآیۃ: ۲۱۵-۲۱۶، ص۸۳۴، ملتقطاً۔