Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
168 - 608
وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْعَزِیْزِ الرَّحِیْمِۙ(۲۱۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا مہر والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس پر بھروسہ کرو جو عزت والا،رحم فرمانے والا ہے۔
{وَ تَوَكَّلْ: اور بھروسہ کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ اپنے تمام کام اللہ تعالٰی کے سپرد فرما دیں  جو کہ اپنے دشمنوں  کو مغلوب کرنے اور اپنے محبوب بندوں  کی مدد کرنے پر قادر ہے،ان مشرکین میں  سے یا ان کے علاوہ دیگر لوگوں  میں  سے جوکوئی بھی آپ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا تو آپ کی طرف سے اللہ تعالٰی اسے کافی ہوگا۔(1)
 توکل کامعنی :
	 توکل کامعنی یہ ہے کہ آدمی اپنا کام اس کے سپرد کر دے جو اس کے کام کا مالک اور اسے نفع و نقصان پہنچانے پر قادر ہے اور وہ صرف اللہ تعالٰی ہے جو کہ تمہارے دشمنوں  پر اپنی قوت سے غالب ہے اور اپنی رحمت سے ان کے خلاف تمہاری مدد فرماتا ہے۔(2)
الَّذِیْ یَرٰىكَ حِیْنَ تَقُوْمُۙ(۲۱۸) وَ تَقَلُّبَكَ فِی السّٰجِدِیْنَ(۲۱۹)اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(۲۲۰)
ترجمۂکنزالایمان:  جو تمہیں  دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو۔ اور نمازیوں  میں  تمہارے دورے کو۔ بیشک وہی سنتا جانتا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جو تمہیں  دیکھتا ہے جب تم کھڑے ہوتے ہو۔ اور نمازیوں  میں  تمہارے دورہ فرمانے کو (دیکھتا ہے۔)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوسعود، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۷، ۴/۱۸۱، ملخصاً۔
2…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۷، ۳/۳۹۸۔