ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اللہ کے سواکسی دوسرے معبود کی عبادت نہ کر ناورنہ تو عذاب والوں میں سے ہوجائے گا۔
{فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ: تو اللہ کے سواکسی دوسرے معبود کی عبادت نہ کرنا۔} اس آیت میں بظاہر خطاب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ہے لیکن اس سے مراد آپ کی امت ہے، چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے (اے لوگو!) جب کافروں کا حال تم نے جان لیا تو تم اللہ تعالٰی کے سواکسی دوسرے معبود کی عبادت نہ کرنا، اگر تم نے ایساکیا تو تم عذاب پانے والوں میں سے ہوجاؤگے۔(1)
وَ اَنْذِرْ عَشِیْرَتَكَ الْاَقْرَبِیْنَۙ(۲۱۴) وَ اخْفِضْ جَنَاحَكَ لِمَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَۚ(۲۱۵) فَاِنْ عَصَوْكَ فَقُلْ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تَعْمَلُوْنَۚ(۲۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: اور اے محبوب اپنے قریب تر رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ اور اپنی رحمت کا بازو بچھاؤ اپنے پیرو مسلمانوں کے لیے۔ تو اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے کاموں سے بے علاقہ ہوں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اے محبوب!اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ اور اپنے پیروکار مسلمانوں کے لیے اپنی رحمت کابازو بچھاؤ۔ پھر اگر وہ تمہارا حکم نہ مانیں تو فرمادو میں تمہارے اعمال سے بیزار ہوں ۔
{ وَ اَنْذِرْ: اور اے محبوب! ڈراؤ۔} ا س سے پہلی آیات میں نبی کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو تسلیاں دی گئیں ، پھر آپ کی نبوت پر دلائل قائم کئے گئے، پھر منکرین کے سوالات ذکر کر کے ان کے جوابات دئیے گئے،اب یہاں سے چند وہ اُمور بیان کئے جا رہے ہیں جن کا تعلق اسلام کی تبلیغ اور رسالت کے ساتھ ہے۔(2)
قریبی رشتہ داروں کو اللہ تعالٰی کے عذاب سے ڈرانے کا حکم:
ابتداء میں دین ِاسلام کی دعوت پوشیدہ طور پر جاری تھی، پھراس آیت میں اللہ تعالٰی نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…خازن، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۳، ۳/۳۹۷، جلالین، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۳، ص۳۱۶، ملتقطاً۔
2…تفسیرکبیر، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۴، ۸/۵۳۶۔