Brailvi Books

صراط الجنان جلدہفتم
165 - 608
وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ الشَّیٰطِیْنُ(۲۱۰)وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهُمْ وَ مَا یَسْتَطِیْعُوْنَؕ(۲۱۱) اِنَّهُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَؕ(۲۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: او راس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے۔اور وہ اس قابل نہیں  اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں ۔ وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردئیے گئے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: او راس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے۔ اورنہ ہی وہ اس قابل تھے اور نہ وہ (اس کی) طاقت رکھتے ہیں ۔ وہ تو سننے کی جگہ سے دور کردئیے گئے ہیں ۔
{وَ مَا تَنَزَّلَتْ بِهِ: او راس قرآن کو لے کر نہ اترے۔} اس آیت اور اس کے بعد والی دو آیات میں  ان کفار کا رد کیا گیا ہے جو یہ کہتے تھے کہ جس طرح شَیاطین کاہنوں  کے پاس آسمانی خبریں  لاتے ہیں  اسی طرح وہ (مَعَاذَاللہ) رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پاس قرآن لاتے ہیں ۔ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ ’’اس قرآن کو لے کر شیطان نہ اترے اورنہ ہی وہ اس قابل تھے کہ قرآن لے کر آئیں  اور نہ وہ ایسا کرسکتے ہیں  کیونکہ یہ اُن کی طاقت سے باہر ہے۔وہ تو فرشتوں  کاکلام سننے کی جگہ آسمان سے شعلے مار کردور کردئیے گئے ہیں  یعنی انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی طرف جو وحی ہوتی ہے، اسے اللہ تعالٰی نے محفوظ کردیا ہے۔ جب تک کہ فرشتہ اس کو بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میں  پہنچا نہ دے اس سے پہلے شیاطین اس کو نہیں  سن سکتے۔(1)
فَلَا تَدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَكُوْنَ مِنَ الْمُعَذَّبِیْنَۚ(۲۱۳)
ترجمۂکنزالایمان: توتو اللہ کے سوا دوسرا خدا نہ پوج کہ تجھ پر عذاب ہوگا۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوسعود، الشعراء، تحت الآیۃ:۲۱۰-۲۱۲،۴/۱۸۱، جلالین مع جمل، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۱۰-۲۱۲، ۵/۴۱۲، ملتقطًا۔