حضرت یحیٰ بن معاذ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’لوگوں میں سب سے زیادہ غافل شخص وہ ہے جو اپنی فانی زندگی پر مغرور رہا،اپنی من پسند چیزوں کی لذت میں کھویا رہااور اپنی عادتوں کے مطابق زندگی بسر کرتا رہا، حالانکہ اللہ تعالٰی فرماتا ہے:
’’اَفَرَءَیْتَ اِنْ مَّتَّعْنٰهُمْ سِنِیْنَۙ(۲۰۵) ثُمَّ جَآءَهُمْ مَّا كَانُوْا یُوْعَدُوْنَۙ(۲۰۶) مَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یُمَتَّعُوْنَ‘‘
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا دیکھو توکہ اگر ہم کچھ سال انہیں فائدہ اٹھانے دیں ۔ پھر ان پر وہ (عذاب) آجائے جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا۔ تو کیا وہ سامان ان کے کام آئےگا جس سے انہیں فائدہ اٹھانے (کا موقع) دیا گیا تھا۔(1)
اللہ تعالٰی مسلمانوں کو ہدایت عطا فرمائے اور دنیا کی بجائے اپنی آخرت سے محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اٰمین۔
وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ اِلَّا لَهَا مُنْذِرُوْنَﲨ (۲۰۸)ذِكْرٰى ﱡ وَ مَا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۲۰۹)
ترجمۂکنزالایمان: اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی جسے ڈر سنانے والے نہ ہوں ۔ نصیحت کے لیے اور ہم ظلم نہیں کرتے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ہم نے جو بستی بھی ہلاک کی اس کیلئے ڈر سنانے والے تھے۔ نصیحت کرنے کے لیے اور ہم ظالم نہ تھے۔
{وَ مَاۤ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍ: اور ہم نے کوئی بستی ہلاک نہ کی۔} ا س آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا معنی یہ ہے کہ ہم پہلے ظالم لوگوں کے پاس ڈر سنانے والے بھیج کر ان پر حجت قائم کردیتے ہیں ، اس کے بعد بھی جو لوگ راہِ راست پر نہیں آتے اور حق کو قبول نہیں کرتے ان پر عذاب نازل کردیتے ہیں تاکہ ان کی ہلاکت دوسروں کے لئے عبرت اور نصیحت کا سامان ہو اور وہ ان جیسی نافرمانی کرنے سے بچ جائیں ۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۷، ص۸۳۳۔
2…مدارک، الشعراء، تحت الآیۃ: ۲۰۸-۲۰۹، ص۸۳۲۔