لمبی عمر اور عیش و عشرت انہیں کیا فائدہ دے گی۔دنیا کی زندگانی اور اس کا عیش خواہ طویل بھی ہو لیکن نہ وہ عذاب کو دور کرسکے گا اورنہ اس کی شدت کم کرسکے گا۔(1)
دنیا کا عیش و عشرت اللہ تعالٰی کا عذاب دور نہیں کر سکتا:
ان آیات میں اگرچہ کفار کے بارے میں بیان ہو اکہ دنیا کی طویل زندگی اور عیش و عشرت کی بہتات ان سے اللہ تعالٰی کا عذاب دور کر سکے گی اور نہ ان سے عذاب کی شدت میں کوئی کمی کر سکے گی، لیکن ان آیات سے ان مسلمانوں کو بھی عبرت حاصل کرنی چاہئے جو دنیا اور اس کی آسائشوں کے حصول میں تو مگن ہیں لیکن اللہ تعالٰی کی عبادت، اس کی یاد اور اس کے ذکر سے غافل ہیں ۔انہیں ڈر جانا چاہئے کہ دنیا کی محبت اور اللہ تعالٰی کی اطاعت اور عبادت سے غفلت کہیں ان کی بھی آخرت تباہ نہ کر دے۔ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
’’اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ(۱) حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ(۲) كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ(۴) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ(۶) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ(۷)ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠‘‘(2)
ترجمۂکنزُالعِرفان: زیادہ مال جمع کرنے کی طلب نے تمہیں غافل کردیا۔ یہاں تک کہ تم نے قبروں کا منہ دیکھا۔ہاں ہاں اب جلد جان جاؤ گے۔پھر یقینا تم جلد جان جاؤ گے۔ یقینا اگر تم یقینی علم کے ساتھ جانتے (تو مال سے محبت نہ رکھتے)۔ بیشک تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔ پھر بیشک تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔
اور حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جو شخص اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچاتا ہے اور جو آدمی اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتا ہے لہٰذا فنا ہونے والی پر باقی رہنے والی کو ترجیح دو۔(3)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مدارک،الشعراء،تحت الآیۃ:۲۰۵-۲۰۷،ص۸۳۲-۸۳۳، خازن،الشعراء،تحت الآیۃ: ۲۰۵-۲۰۷، ۳/۳۹۶، ملتقطاً۔
2…التکاثر:۱۔۸۔
3…مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۷/۱۶۵، الحدیث: ۱۹۷۱۷۔